5

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا لبنان معاہدے پر بیان

🇮 اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا لبنان معاہدے پر بیان
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے واشنگٹن میں اسرائیل، لبنان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ
“طویل مذاکرات کے بعد اب نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔”

نیتن یاہو کے مطابق
اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے سیکیورٹی زون میں موجود رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ موجودگی اس وقت تک برقرار رہے گی
جب تک
حزب اللہ غیر مسلح نہیں ہو جاتی اور اسرائیل کے لیے خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ ایران کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے،
کیونکہ ان کے بقول اسرائیل، لبنان اور امریکہ مشترکہ طور پر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ لبنان کے معاملات میں ایران کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی پوزیشن برقرار رکھے گا،
جبکہ
لبنانی فوج کو مرحلہ وار جنوبی علاقوں میں تعینات ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
ان کے مطابق
ابتدائی طور پر دو پائلٹ علاقوں میں اس منصوبے پر عمل کیا جائے گا، جس کی سفارش اسرائیلی فوج (IDF) نے کی ہے۔

تازہ صورتحال:
اس معاہدے کے حوالے سے مختلف فریقین کی جانب سے مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔
لبنان اور حزب اللہ کی جانب سے تمام تفصیلات پر باضابطہ ردِعمل اور عملی اقدامات پر عالمی میڈیا کی نظریں مرکوز ہیں،
جبکہ
امریکہ اس معاہدے کے نفاذ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں