*جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق چیئر مین پروفیسر ذکریاساجد انتقال کرگئے*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق چیئر مین پروفیسر محمد ذکریا ساجد کا چھیانوے برس کی عمر میں گزشتہ دنوں قضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا۔ ان کی نمازجنازہ جامعہ کراچی کی جامع مسجد ابراہیم میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی۔ بعد ازاں انہیں جامعہ کراچی کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔نمازجنازہ میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، مختلف شعبہ جات کے اساتذہ، کراچی پریس کلب کے عہدیداران، نامورصحافی، عمائدین شہر اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروفیسر محمد ذکریا ساجد یکم جولائی سنہ انیس سو اٹھائیس عیسوی کو پیدا ہوئے، انہوں نے یکم نومبر سنہ انیس سو چھیاسٹھ عیسوی کو شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی سے بحیثیت لیکچرر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا، اٹھائیس اگست سنہ انیس سو ستاتر عیسوی کو اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز ہوئے جبکہ گیارہ اکتوبر سنہ انیس سو بیاسی عیسوی کو ایسوسی ایٹ پروفیسر اور آٹھ دسمبر سنہ انیس سو پچاسی عیسوی کو پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔مرحوم تیس جون سنہ انیس سو اٹھاسی عیسوی کو شعبہ ابلاغ عامہ سے بحیثیت پروفیسر سبکدوش ہوئے۔ مرحوم نے جامعہ کراچی میں اکیس سال سات ماہ تدریسی خدمات انجام دیں۔ پروفیسر ذکریا ساجد نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا، بارہ سال تک پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے ڈائریکٹر کی ذمہ داری ادا کی۔ سنہ دو ہزار نو عیسوی میں پروفیسر زکریا ساجد کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں سندھ یونیورسٹی میں سینٹر فار رورل ڈیولپمنٹ کمیونیکیشن کے کانفرنس ہال کو پروفیسر زکریا ساجد کے نام سے منسوب کیا گیا اور سنہ دو ہزار چودہ عیسوی میں صدر پاکستان میاں ممنون حسین کی جانب سے انہیں صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ دریں اثناء جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے پروفیسر ذکریا ساجد کی وفات پر دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ شریف النفس اور ہمدرد انسان بھی تھے۔ مرحوم کا نام تدریس اور صحافت کے شعبہ کیلئے کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاکرے۔