پریکٹس اینڈ پروسیجر بل وہ گڑھا تھا، جو حکومت اور قاضی نے تحریک انصاف کے لیے کھودا تھا۔ لیکن اس گڑھے میں گرے یہ دونوں ہیں۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ دراصل سوموٹو ایکشن، بینچز کی تشکیل، نظر ثانی کی اپیل و دیگر معاملات پر چیف جسٹس کی گرفت کمزور کرنا تھا۔ یہ بندوبست بنیادی طور چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کے لیے تھا۔
قاضی نے ہر معاملے میں روڑے اٹکائے، بہانے بنائے۔ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ منظور ہوگیا تو اس کمیٹی میں قاضی فائز عیسی، جسٹس اعجاز الحسن اور سردار طارق مسعود شامل ہوتے تھے۔ مرضی کے بینچ بنانے میں قاضی کو سہولت حاصل تھی۔ جسٹس اعجاز الحسن کے مستعفی ہونے کے بعد منصور علی شاہ اس کمیٹی کا حصہ بن گئے۔ جب طارق مسعود ریٹائر ہوئے تو جسٹس منیب اختر اس کمیٹی میں شامل ہوگئے۔
اب قاضی کو بینچ بنانے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں، قاضی سوموٹو ایکشن بھی نہیں لے سکتا اور نظر ثانی کی اپیلیں بھی وہی پہلے والا بینچ ہی سن سکتا ہے۔ قاضی اور حکومت اس وقت گہری مصیبت میں ہیں۔ انکی ہر چال الٹی پڑتی جارہی ہے۔ اگر بینچز کی تشکیل والا اختیار چیف جسٹس کے پاس حکومت رہنے دیتی تو آج معاملات بہت مختلف ہونے تھے۔
تحریک انصاف پر پابندی ہو یا آرٹیکل چھے ہو۔ قاضی اب بے بس ہے، منصور علی شاہ کی لابنگ بہت تگڑی ہے۔ جسٹس عالیہ نیلم بھی منصور علی شاہ نے بنوائی ہے۔ آگے چل کر مزید راز کھلیں گے۔ ایڈہاک ججز کی تقرری بھی مشکوک ہو چکی ہے، ایڈہاک تقرری ہو بھی گئی تو غیر متعلق ہو جائے گی۔