97

*اظہر مشوانی کے والد کا چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فاٸز عیسی، تمام سپریم کورٹ ججز اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے نام خط*

*اظہر مشوانی کے والد کا چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فاٸز عیسی، تمام سپریم کورٹ ججز اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے نام خط*

*ہائی کورٹس میں حبس بے جا سے متعلقہ پٹیشنز کی فوری سماعت کی ضرورت کی بابت خط*

*جبری گمشدگیوں سے متعلقہ حبس بے جا کی پٹیشنز میں ہائی کورٹس کے طرز عمل اور بےجا التوا پر گہری تشویش کا اظہار*

خط کے مندرجات:
• سپریم کورٹ نے 3 جنوری 2024 کو آئینی پٹیشن نمبر 51/2023 میں واضح ہدایت جاری کی کہ وفاقی حکومت، سینئیر افسران کے دستخط پر مشتمل ایک معاہدہ جمع کروائے، کہ آئندہ کسی بھی شخص کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں لیا جائے گا۔

• جنوری 2023 میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتیں ختم ہونے کے بعد سے، ہائی کورٹس میں حبس بے جا سے متعلق پٹیشنز کی سماعتیں مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔

• حبس بے جا سے متعلق پٹیشنز کو سطحی طور پر نمٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔

• سپریم کورٹ کے جاری کردہ 3 جنوری 2024 کے حکم نامے کے باوجود، غیرقانونی اغوا کا سلسلہ جاری ہے۔

• میرا بیٹا، پروفیسر ظہور الحسن، پچھلے سال پہلی مرتبہ (10-05-2023 سے 30-09-2023 تک) 144 دن (غیرقانونی) قید میں رہا۔

• ظہور مشوانی کی بازیابی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کی تین درخواستوں میں بلا جواز تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جن میں درخواستوں کا مسترد کیا جانا بھی شامل ہے۔

• ایجنسیوں کی مداخلت کے واضح ثبوتوں کے باوجود، درخواستیں بار بار پولیس کی سطحی رپورٹس کی بنیاد پر خارج کی گئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ظہور مشوانی ان کی حراست میں نہیں ہے۔

• یہ مسلسل تاخیر بے حد مایوس کن ہے اور ہمارے عدالتی عمل پر اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہی ہے۔

• مجھے بھی اپنے بیٹے پروفیسر ظہور کے ساتھ 10 مئی 2023 کو پہلی بار اغوا کیا گیا، اور تین دن بعد رہا کیا گیا۔

• اظہر مشوانی کی سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ سیاسی وابستگی کی وجہ سے اس وقت، اسکے دیگر دو بھاٸی، پروفیسر مظہر الحسن اور پروفیسر ظہور الحسن 06-06-2024 سے اغوا ہیں۔

• گرین ٹاؤن پولیس اسٹیشن، لاہور میں ایف آئی آر نمبر 2598/24 درج کی گئی ہے، اور رٹ پٹیشن نمبر 36124/2024 لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شہرام سرور کی عدالت میں زیر التوا ہے۔

• ہماری حبس بے جا پٹیشن (2598/24) کی سماعت 6 جون سے 27 جون 2024 تک جسٹس شہباز رضوی نے کی، جنہوں نے ایف آئی آر کے اندراج، جیو فینسنگ ڈیٹا جمع کرنے اور سیف سٹی اتھارٹی کی فوٹیج کی تصدیق کا حکم دیا جس سے ثابت ہوا کہ اغوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں ملوث تھیں۔

• بعدازاں کیس جسٹس شہرام سرور کے پاس منتقل کر دیا گیا جو تاحال تاخیر کا شکار ہے۔

• یکم جولائی 2024 کو جسٹس شہرام سرور نے اگلی سماعت 12 جولائی 2024 تک ملتوی کر دی۔

• 12 جولائی کو، سماعت مزید 12 دنوں کے لیے یعنی 24 جولائی 2024 تک ملتوی کر دی گئی۔

• صورتحال کی فوری اور سنگین نوعیت کے تناظر میں یہ مسلسل التوا ہمارے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ جس پر عدالت سے فوری کارروائی کی استدعا ہے۔

• میرے بیٹے اظہر مشوانی کو پروفیسر مظہر اور پروفیسر ظہور کے اغوا کے پہلے تین ہفتوں کے دوران تین دھمکی آمیز واٹس ایپ کالز موصول ہوئیں۔

• اغوا کنندگان نے اظہر مشوانی سے مطالبہ کیا کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد پوسٹ کی گئی اپنی ٹویٹس اور “کسی اور اکاؤنٹ” سے پوسٹ کی گئی ٹویٹس ڈیلیٹ کرے۔

• خصوصاً وہ ٹویٹس جو کہ اسٹیبلشمنٹ، انتخابی دھاندلی، 1971 اور پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق تھیں۔

• اغواکنددگان نے اظہر مشوانی سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ہم اپنی لاہور ہائی کورٹ میں داٸر کردہ پٹیشن (# 36124/2024) سے دستبردار ہو جاٸیں۔

• بصورتِ دیگر دھمکی دی گئی کہ ہم اپنے بیٹوں کو کبھی زندہ نہیں دیکھ سکیں گے۔

• شدید دباؤ، اپنے خاندان کی حفاظت کے پیش نظر، اور گھر والوں کے اصرار پر، میرے بیٹے اظہر مشوانی نے اپنا اور اپنی اہلیہ کا ٹویٹر اکاؤنٹ غیر فعال کر دیا ہے۔

• اظہر اس وقت سیاسی انتقام کے باعث جلا وطنی کاٹ رہا ہے۔

• پچھلے سال اظہر کو بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ سیاسی وابستگی کے باعث 8 دنوں کے لیے اغوا کیا گیا تھا۔

• مسلسل اغوا کے یہ واقعات اور ہائی کورٹ میں قانونی کارروائی میں تاخیر ہمارے خاندان کے لیے شدید نفسیاتی پریشانی کا باعث ہے۔

• میرے بچے قانون پسند شہری ہیں جن کا نہ کوئی مجرمانہ ریکارڈ ہے اور نہ ہی وہ کسی غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

• اظہر مشوانی کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر، پورا خاندان شعبہ تدریس سے وابستہ ہے، جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں۔

• حالات کی سنگینی اور فوری نوعیت کے پیش نظر میں بصد احترام سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ:

1. ہائی کورٹس کو ہدایت دی جائے کہ وہ گزشتہ 18 مہینوں میں دائر کی جانے والی تمام حبسِ بے جا کی درخواستوں کا ڈیٹا جمع کریں اور ہر سماعت کے درمیان تاخیر/وقفوں کا تجزیہ کریں۔
2. ہائی کورٹس کو ہدایت دی جائے کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق حبسِ بے جا کی درخواستوں کو بلا تاخیر، روز کی بنیاد پر سنا جائے۔
3. سپریم کورٹ ان افراد کو جوابدہ ٹھہرائے جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کے مرتکب ہیں۔ باوجود اسکے کہ انہوں نے حلف نامہ جمع کرایا تھا کہ 3 جنوری 2024 کے بعد کسی کو غیر قانونی حراست میں نہیں لیا جائے گا۔
4. عدالت یہ یقینی بنائے کہ ایف آئی آرز، بشمول ایف آئی آر نمبر 2598/24، 3822/23 اور 1430/23 گرین ٹاؤن پولیس اسٹیشن لاہور، کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اغوا کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
5. عدالت قانونی مدد کے لیے اپنی مشکلات کو ریکارڈ پر لانے والے متاثرہ خاندانوں کی حفاظت یقینی بناٸے تاکہ انہیں مزید ہراسانی اور دھمکیوں سے بچایا جا سکے۔

• سپریم کورٹ کی فوری مداخلت اور کڑی نگرانی ان لاتعداد خاندانوں کے لیے انصاف کو یقینی بنانے میں انتہائی اہم ہے جو اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیاں سہہ رہے ہیں۔

*والد اظہر مشوانی، قاضی حبیب الرحمن*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں