*CSS کا امتحان ، کیسا امتحان ہے؟*
جس انگریز نے یہ امتحان شروع کیا تھا اس نے انگلینڈ میں یہ بند کر دیا ہے۔۔۔امریکا،یورپ وغیرہ کسی ترقییافتہ ملک میں ایسا مضحکہ خیز امتحان نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔
پاکستان بننے سے پہلے اسکا نام ICS یعنی انڈین سول سروس تھا۔پھر پاکستان میں اسکے نام کو سینٹرل سپیریر سروس رکھا گیا۔ یعنی تکبر بھرے لفظ superior کا اضافہ کیا گیا۔
بظاھر اس میں پاکستان کے best brains چنےجاتے ہیں۔لیکن پھر جب وہ best brain سروس میں آتے ہیں تو جن محکموں کو وہ چلاتے ہیں انکی کارکردگی بد ترین ہوتی ہے۔اگر دیکھاجائےکہ پاکستان میں بدترین محکمے کونسے ہیں، جیسے پولیس،کچہری،کسٹمز،انکم ٹیکس،AG آفس،ریلوے۔تو پتا چلتا ہے کہ یہ سارے محکمے CSS افسروں کے ماتحت ہیں۔
آخر کیا وجہ ہے کہ best brain کی قابلیت کا بالکل بھی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
پروفیسر آف انگلش رانا جہانگیر جن کے بہت سے شاگرد CSS افسر ہیں،کہتے ہیں اگر CSS کی نوکری میں کرپشن نہ ہو تو پھر تو یہ امتحان کوئی دےگا ہی نہیں!
پھر ایک عجیب بات یہ ہے کہ تاریخ،جغرافیہ اور انگلش میں CSS پاس کرنے والے کو پہلے AC اور اسکے بعد ڈپٹی سیکریٹیری ہیلتھ لگا دیاجاتا ہے۔پھر لائیو سٹاک کاMD اور پھر واسا کا MD لگا دیاجاتا ہے۔اور اس بیچارے کو انمیں سے کسی محکمے کے بارے کچھ بھی پتا نہیں ہوتا۔۔۔
کیا اس امتحان کا طریقہ کار جو ڈیڑھ سو سال پرانا ہے اسکو بدلنا نہیں چاہیے؟۔۔۔۔۔
بہتر نہ ہو گا کہ ہر محکمے کا الگ CSS امتحان ہو۔۔۔۔۔مثلا سیکریٹیری ہیلتھ کےلیے MBBS ضروری ہو۔۔۔۔۔۔۔
اریگیشن کے لیے انجنئیرنگ ضروری ہو۔۔۔۔۔۔۔
اور AG آفس کا CSS کرنے کےلیے accounts کی ڈگری لازم ہو۔۔۔۔۔۔۔