68

‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج صاحبان کی مقررہ تعداد ۱۰ ہےلیکن ۲ آسامیاں پچھلے کئی سالوں سے خالی ہیں،بلوچستان ہائیکورٹ میں جج صاحبان کی مقررہ تعداد ۱۵ ہے لیکن ۴ آسامیاں کافی عرصہ سے خالی ہیں، لاہور ہائیکورٹ میں جج صاحبان

‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج صاحبان کی مقررہ تعداد ۱۰ ہےلیکن ۲ آسامیاں پچھلے کئی سالوں سے خالی ہیں،بلوچستان ہائیکورٹ میں جج صاحبان کی مقررہ تعداد ۱۵ ہے لیکن ۴ آسامیاں کافی عرصہ سے خالی ہیں، لاہور ہائیکورٹ میں جج صاحبان کی مقررہ تعداد ۶۲ ہے لیکن ۲۶ آسامیاں پچھلے طویل عرصہ سے خالی ہیں، پشاور ہائیکورٹ میں جج صاحبان کی تعداد ۲۰ ہے لیکن ۶ آسامیاں کافی عرصہ سے خالی ہیں، سندھ ہائیکورٹ میں جج صاحبان کی تعداد ۳۲ ہے لیکن ۳ آسامیاں خالی ہیں۔

جبکہ قانونی طور پہ ان تمام آسامیوں پہ آئین کے مطابق وہ سیشن جج تعینات ہونے کے لئے اہل ہیں جنہوں نے بطور سیشن جج ۵ سال سروس کی ہو یا وہ وکیل جس کی ۱۰ سال ہائیکورٹ کی پریکٹس ہو اور کم از کم عمر ۴۵ سال ہو۔ اگر ان خالی آسامیوں کو پر کردیا جائے تو اعلی عدلیہ میں مقدمات کے فیصلوں میں کم از کم ۳۰ فیصد بہتری آ سکتی ہے اور جلد حصول انصاف کے مقصد میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ جب سیشن جج صاحب ہائیکورٹ میں تعینات ہوں گے تو ان سے نچلے عہدوں پہ فائز جج صاحبان کی ترقی ہو گی اور عدلیہ میں سول جج و جوڈیشل میجسٹریٹ کی آسامیاں بھی آئیں گی جس سے نئے لوگوں کیلئیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اسی طرح جب کسی سینئیر وکیل کو ہائیکورٹ میں تعینات کیا جاتا ہے تو اس تعیناتی کی وجہ سے دوسرے وکلاء کی وکالت میں بھی بہتری آتی ہے۔

لیکن یہاں پہ المیہ یہ ہے کہ جو جج صاحبان پہلے سے ہی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے اعلیٰ عہدوں پہ فائز رہ چکے ہیں اور ان عدالتی عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی ملک کے اعلیٰ عہدوں پہ فائز ہیں ان ہی کو دوبارہ عدالتی عہدوں پہ فائز کرنے کیلئے اور قریبیوں کو نوازنے کی فکر اہل حل وعقد کو کھائے جا رہی ہے ۔ ان صاحبان اقتدار سے استدعا ہے کہ ایک بار ہائیکورٹ کی تمام خالی آسامیوں کو پر کرکے دیکھ لیں ہو سکتا ہے کوئی بہتری آ جائے۔

آصف علی تمبولی ایڈووکیٹ کی فیس بک وال سے اقتباس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں