۔۔۔۔ دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم پُرعزم ، باہمت طلبہ حمیرا سردار ۔۔۔۔
۔۔۔۔ پنجاب یونیورسٹی صحافت (ماس کمنکشن) کے ساتویں سسٹم میں ۔۔۔۔
۔۔۔۔ سی ایس ایس کرکے عام لوگوں کی طرح خدمت کرنا چاہتی ہے ۔۔۔
۔۔۔ تحریر ۔۔۔ سید ندیم جعفری رینالہ خورد ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ اگر انسان کی سچی لگن ، منزل پانے کی جستجو ، کامیابی حاصل کرنے کی ہمت ہو تو اسکے سامنے کوئی معذوری معنی نہیں رکھتی ۔ اسکی محنت ، ہمت ، حوصلہ کسی بھی پہاڑ کو بھی گرانے کی طاقت رکھتا ہے ۔ ایسی ہی ایک اعلی مثال ضلع اوکاڑہ کی زرخیز سر زمین کی خودار ، بلند حوصلہ طلبہ حمیرا سردار کی سامنے آتی ہے ۔ جس نے آنکھوں کی بینائی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی اس معذوری کو بہانہ نہیں بنایا ۔ اس نے نہ صرف سپشل بلکہ تمام جسمانی اعضاء کے حامل طلباء و طالبات کے لئے اور خصوصاً نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ کسی بھی تکلیف ، رکاوٹوں کے باوجود انسان کامیابی کی منازل طے کرسکتا ہے
۔۔۔ آج میں آپکی ملاقات ایک ایسی باہمت طلبہ حمیرا سردار دختر سردار محمد سکنہ وہاب ٹاؤن نزد جامع مسجد بیت المکرم اوکاڑہ کی رہائشی ہے ۔ 1995 میں پیدا ہونے والی بلند حوصلہ اس بچی نے ابتدائی تعلیم مقامی ٹیلنٹ پبلک سکول وہاب ٹاؤن اوکاڑہ سے حاصل کی ۔ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ گرلز ایلیمنٹری سکول تحصیل روڈ چوتھی میں داخل ہوئیں ۔ اس سے قبل ہی اسکی آنکھوں کی روشنی کم ہونی شروع ہوئی ۔ تمام اسپشلسٹ آئی سرجن اور دیگر ملکی اداروں میں جواب ہونے کے بعد اس بچی کو گورنمنٹ گنج شکر سپشل ایجوکیشن سنٹر شمسہ کالونی اوکاڑہ میں داخل کروادیا ۔ جہاں حمیرا سردار نے محنت و لگن سے تعلم جاری رکھی ۔ اس طرح 2019 میں اس نے میٹرک کا امتحان 74 فیصد نمبروں سے پاس کیا ۔ بعد ازاں اس کے بے حد اسرار کے بعد گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اوکاڑہ سٹی میں ایف اے آڑٹس میں داخلہ لیا ۔ وہاں بھی رائٹر کی مدد سے امتحان دیا اور سال 2021 ایف اے پاس کرکے 65 فیصد نمبر حاصل کئے ۔ اسکی تعلیم دوستی ، سچی لگن نے ڈس ابیلٹی کوٹہ سسٹم میں سپشل سیٹ پر ماس کمنکشن (صحافت ) میں داخلہ لیا ۔ یہ بات واقعی حیران کن لگتی ہے کہ ہر امتحان میں الگ رائٹرز کی مدد سے امتحان پاس کرنا بہت بڑا عمل ہے ۔
۔۔۔۔ حمیرا سردار اپنا سفر بسوں پر کرتی ہیں ۔ وہ محتاجی کی زندگی کو اہمیت نہیں دیتی ۔ جب اوکاڑہ سے لاہور جانا ہو تو تب بھی بس پر جبکہ یونیورسٹی کے اندر ہاسٹل سے ڈیپارٹمنٹ بھی اسی طرح آتی جاتی ہیں ۔ ماشاءاللہ انہوں نے چھ سمسٹرز بہترین پوزیشن میں مکمل کرلئے ہیں ۔ وہ کلاس میں لیکچر کے دوران آڈیو ریکارڈنگ کرتی ہیں ۔ پھر اسکی مدد سے تیاری کرتی ہیں ۔انٹرنیٹ ، مختلف ایپس کی مدد سے امتحان کی تیاری کرتی ہیں
۔۔۔۔ حمیرا سردار کی 8 بہنیں جبکہ اکلوتا بھائی ہے ۔ گھر میں دوسرا نمبر ہے ۔ یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ گھر کے تقریباً سبھی کام کرسکتی ہیں ۔ ان سے جب ہماری گفتگو ہوئی تو اسوقت اسکی آنکھوں کی بینائی جانے کا افسوس ہورہا تھا مگر جب گفتگو ہوئی تو اس پر فخر بھی ہورہا تھا۔ سب سے پہلے مالی مشکلات کا پوچھا گیا تب انہوں نے بتایا کہ تو اس نے بتایا کہ رب العالمین نے جب ایسا بنایا ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ یقیناً کوئی انتظام بھی کیا ہی ہوگا ۔ وہ خود بھی خصوصی افراد کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ وہ ایسے افراد کا سہارا بن کر انکو انکے پاؤں پر کھڑا کرنے اور انکا مکمل حوصلہ بنیں گے ۔ اس نے بتایا کہ ہمارے ملک میں سپشل پرسن کو “ڈی گریڈ” کیا جاتا ہے مجھ جیسے لاکھوں افراد کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔ حالانکہ یہ ہماری کوئی قصور نہیں ۔ اوپر والے نے ہمیں ایسا پیدا کیا ہے ۔ دنیا کے دیگر ممالک میں ایسے افراد کو ” پش اپ” کرتے ہیں ۔ اس نے کہا کہ وطن عزیز کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کے ہاتھ چھوڑنے کی بجائے ، ہاتھ تھامنے کو ترجیح دیں ، ہم جیسے گرتے افراد کا سہارا بنیں ۔ آپکی چھوٹی سی کوشش کسی ایسے شخص کے لیے کامیابی ، حوصلہ ، مسکان دے سکتی ہے ۔ جو نظریں آپکی طرف اٹھی ہیں ۔ انکی آنکھوں میں ادرھوے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لئے ، کسی کی زندگی ، کسی کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے آگے آہیں ۔ اس دوران یہ بھی پتہ چلا کہ مختلف اضلاع میں سپشل پرسن کی خصوصی تقریبات میں شرکت کی ، ان تقریبات میں باقاعدہ حاصل لیا ، شلیڈز ، ایوارڈز ، میڈلز ، سرٹیفکیٹس حاصل کئے ۔
۔۔۔۔ اس کے بہتر مستقبل کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو اس نے کہا کہ جب اللہ تعالٰی نے مجھے پنجاب یونیورسٹی لاہور تک پہنچایا ہے تو یقیناً اس نے میرے لئے کوئی اپنا بندہ ضرور مقرر کیا ہوگا جو آئندہ میرے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ انکی پہلی ترجیح CSS کرکے اس ملک میں ایک مثال بننا ہے ۔ اگر حکومت ، کوئی ادارہ ، کوئی سماجی و رفاعی ، تاجر تنظیمیں میں ساتھ تو میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ میں پاکستان کا فخر تابت ہونگی ۔ اچھا آفیسر بن کر ملک و قوم کی خدمت اور سپشل پرسن کا حوصلہ بنوں گئی ۔
۔۔۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز سے امید ظاہر کی کہ وہ جس طرح سپشل افراد کے لئے فلاحی منصوبے بنارہی ہیں ۔ وہ میری تعلیم کی تکمیل اور آئندہ بہتر مستقبل کے لئے کچھ ایسا کریں کہ مجھے محتاجی نہ رہے ۔ باعزت روزگار جس سے میری زندگی آسان بن سکے ۔ انکا کہنا ہے کہ ہر محکمہ میں سپشل پرسن کے لئے کوٹہ ہوتا ہے ۔ آنکھوں سے محروم افراد کے لئے ترجیح بنیادوں پر کوئی ایسا منصوبہ بندی کریں تاکہ ایسے افراد خوش و خرم زندگی بسر کرسکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔ سید ندیم جعفری رینالہ خورد ۔۔۔۔۔
نورپورتھل(راجہ نورالہی عاطف سے)تحصیل نورپورتھل میں یومِ عاشورہ کے تمام جلوس اور
جوہرآباد (راجہ نورالہی عاطف سے) ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو خوشاب علی حسین نے میڈیا کو بتایا ہے کہا
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا لبنان معاہدے پر بیان
ٹھٹہ رپورٹ دعا نیوز عبدالعزیز شیخ جمعیت علماء اسلام یونٹ سونڈا کا دستوری عمومی اجلاس منعقد
ٹھٹھہ رپورٹ دعا نیوز عبدالعزیز شیخ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت کی ہدایت پر