پیام شوق و مساءالخیرحبیبی!
وہ حلقہ یاراں، وہ میری شوخ مزاجی
اے گردش حالات بتاء، وہ وقت کہاں ھے
جانتے ھو انسان کسے کہتے ہیں جس کے دل میں انسانیت، آنکھوں میں احترام، الفاظ میں نرمی، اخلاق میں رحمدلی اور مقاصد میں اعلی ظرفی ھو، ڈیئر! یہ دنیا ہمارا گھر نہیں ھے بلکہ ہم دوران سفر یہاں سے گزر رھے ہیں مسافر کو یہ بات کبھی بھولنی نہیں چاہیے اس پڑاؤ میں بہترین ساتھی ( بیوی) وہ ھے جس کی خواہشیں شوہر کی گنجائشں کے مطابق ھوں۔
🍃مرد اور عورت کے دماغ کے درمیان فرق!!
اج ایک انتہائی اہم موضوع پر باحث کرتے ہیں جو غالبن ہر گھر میں چراغاں ھے۔۔
1. زبان
عورت کے لیے نئی زبانیں سیکھنا آسان ھے، جبکہ مرد کے لیے نئی زبانیں سیکھنا مشکل ہوتا ھے۔ اس وجہ سے لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ ذہین ہوتی ہیں۔
2. متعدد کام
عورت کا دماغ بیک وقت کئی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تیار ہوتا ھے، وہ ٹی وی دیکھ سکتی ھے، فون پر بات کر سکتی ھے یا گھر کے کام کر سکتی ھے ایک ہی وقت میں جبکہ مرد کا دماغ ایک وقت میں صرف ایک کام کرنے کے لیے تیار ہوتا ھے، جیسے کہ وہ فون پر بات نہیں کر سکتا جب ٹی وی دیکھ رہا ہو، اور وہ گاڑی چلاتے وقت ریڈیو کا آواز کم یا بند کر دیتا ھے تا کہ توجہ مرکوز کر سکے۔
3. تجزیاتی مہارت
مرد کے دماغ میں تجزیاتی مہارتوں کے لیے کافی جگہ ہوتی ھے، اگر اسے نقشہ دکھایا جائے تو وہ نقشے کا تجزیہ کر سکتا ھے، مسئلہ کو سمجھ سکتا ھے اور جلدی حل تلاش کر سکتا ھے۔ جبکہ عورت کے لیے نقشے کی تفصیلات سمجھنا مشکل ہوتا ھے اور نقشہ اس کے لیے صرف لکیروں کا مجموعہ ہوتا ھے۔
4. ڈرائیونگ
مرد تیزی سے گاڑی چلا سکتا ھے اور گاڑی اور سمتوں کو کنٹرول کر سکتا ھے اور اگر کوئی رکاوٹ سامنے آئے تو وہ جلدی سوچ کر اسے بچا سکتا ھے جبکہ عورت کو رکاوٹ کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے میں وقت درکار ہوتا ھے۔
5. جھوٹ بولنا
مرد عورت کے سامنے جھوٹ بولنے میں ناکام رہتا ھے کیونکہ عورت کا دماغ 70% چہرے کی تاثرات، 20% جسم کی زبان اور 10% لبوں کی حرکت کو سمجھ سکتا ھے، جبکہ مرد کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہوتی اور عورت اس کے سامنے آسانی سے جھوٹ بول سکتی ھے۔
6. مسائل کا حل:
جب مرد کو کئی مسائل کا سامنا ہوتا ھے تو اس کا دماغ خود بخود مسائل کو الگ الگ کر کے ہر مسئلے کا حل تلاش کرتا ھے، جبکہ عورت کا دماغ مسائل کو الگ الگ نہیں کر پاتا اور وہ اکثر دوسروں سے مدد لیتی ھے اور ہمیشہ کسی سننے والے کی ضرورت محسوس کرتی ھے، اور جب وہ اپنے مسائل بیان کر لیتی ھے تو اس کا بوجھ کم ہو جاتا ھے چاہے مسئلے کا حل ملے یا نہ ملے