4

*اسرائیل کی بین الاقوامی تنہائی اور خطے کی صورتحال*

*اسرائیل کی بین الاقوامی تنہائی اور خطے کی صورتحال*
عالمی تنازعات میں مشرق وسطی یا مغربی ایشیاء پر عجیب سی کیفیت چھائی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
دو ریاستی فارمولہ ابراہام اکارڈ عرب اسپرنگ بورڈ آف پیس ایم او یو ۔۔۔۔
سب کچھ صرف اسرائیل کے تحفظ اور استحکام سے منسلک تھے۔ کیونکہ مشرق وسطی کی تمام (سابقہ و موجودہ) جنگوں کا مقصد صرف اسرائیل کو محفوظ و مستحکم بنانا تھا۔ موجودہ حالات میں چند ایک مسلم خطے چھوڑ کر سب مسلم علاقے برباد کرنے اور عرب مسلمانوں کی نسل کشی کے باوجود، ابھی تک اسرائیل کوئی فیصلہ کن برتری نہیں حاصل کر سکا۔
بلکہ مزید غیر محفوظ ہو چکا۔۔
مقبوضہ فلسطین(غزہ) میں مسلسل ہونے والی بڑی فوجی کارروائیوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں سمیت انفراسٹرکچر کی تباہی نے دنیا بھر میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ یورپ، امریکہ اور ایشیاء کے بہت سے ممالک نے اسے “غیر انسانی جنگی جرائم” قرار دیا۔
اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف ICJ اور عالمی فوجداری عدالت ICC میں اسرائیل کے خلاف مقدمات اور وارنٹس۔
اسرائیل کی جانب سے نئی بستیاں بنانے، فلسطینی ریاست کے امکان کو ہی مسترد کرنے اور لبنان شام مصر اردن کے علاقوں پر فوجی جارحیت نے یورپ اور عرب دنیا دونوں کو دور کر دیا۔
یہاں تک کہ اب امریکہ جیسے روایتی اتحادی بھی کھل کر “سیٹلمنٹ” پر تنقید کرنے لگے ہیں ۔
کئی ممالک نے اسرائیل سے اسلحے کی فروخت روکی، تجارتی معاہدے معطل کیے، “بائیکاٹ، ڈائیویسٹمنٹ، سینکشنز” BDS کی تحریک کو سپورٹ کیا۔ اسپین، روس، آئرلینڈ، ناروے نے فلسطین کو ریاست تسلیم کیا، جبکہ مسلم ممالک ابھی تک شش و پنچ میں مبتلا ہیں۔ یہاں تک کہ غیر مسلم ملک جنوبی افریقہ نے ICJ میں ” نسل کشی ” کا کیس دائر کیا۔ یہ سب اخلاقی و قانونی تنہائی بڑھاتے چلے گئے۔
کیونکہ دنیا اب “سیکیورٹی” کے جواز کو اس وقت تک نہیں مانتی جب تک اس کے ساتھ “سیاسی حل” نہ ہو۔ جب تک فلسطینی و لبنانی مسئلے حل نہیں ہوتے، اسرائیل کی سفارتی، قانونی اور عوامی سطح پر تنہائی بڑھتی رہے گی۔ اب جب امریکہ صدر ٹرمپ کی حکومت کی دوسری آخری مدت کے بقیہ 2 سال رہ گئے، اور ماہ اکتوبر 2026ء کے شروع میں اسرائیل کے نئے انتخابات ہونے والے ہیں۔ جس میں موجودہ صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو اور مخالف گروپ کے انتہائی مذہبی نظریاتی امیدوار مدمقابل ہونگے۔۔
اس سب میں مزے کی بات یہ ہے کہ عرب خطوں کے مستقبل کا انحصار اسرائیل کی عوام (اسرائیلی انتخابات) پر منحصر ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں