September 30, 2026

سکھر(بیورو چیف سید نصیر حسین۔ زیدی دعا آن لاین نیوز) سندھ صوبہ کی مارکیٹ کمیٹیاں خسارے کا شکار، ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن دینا مسئلہ، مارکیٹ فیس شیڈول روائیز کرکے ڈیفالٹ کارخانوں سے ڈپٹی کمشنرز کے

20250228_134447

سکھر(بیورو چیف
سید نصیر حسین۔ زیدی
دعا آن لاین نیوز) سندھ صوبہ کی مارکیٹ کمیٹیاں خسارے کا شکار، ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن دینا مسئلہ، مارکیٹ فیس شیڈول روائیز کرکے ڈیفالٹ کارخانوں سے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے وصولیان کروانے کیلئے سندھ ہائی کورٹ بئنچ سکھر میں دائر درخواست پر سماعت، خبر کے مطابق سندھ ہائی کورٹ بئنچ سکھر میں مارکیٹ کمیٹی ایمپلائیز ایسوسیئیشن سندھ کے صدر حامد علی سہتو، جنرل سیکرٹری طارق اکبر، نثار احمد اوڈہو و دیگر کی جانب سے مارکیٹ کمیٹی فیس کم مقرر کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی گئی، جسٽس محمد سليم جيسر اور جسٹس عددنان الڪريم میمن پر مشتمل آئینی بئنچ کے روبرو درخواستگذاران کے وکیل سہیل کھوسو نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری کو دی گئی ڈائریکشن کے باوجود سیکرٹری ایگریکلچر پرائس کنٹرول / بیورو آف سپلائی کی جانب سے مارکیٹ فیس کا شیڈول روائیز نہیں کیا گیا، اور عدالت کی جانب سے ڈیفالٹ کارخانوں مین سے اسسٹنٹ کمشنرز کے ذریعے مارکیٹ فیس وصولی کے دیئے گئے حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا ہے، دلائل سننے کے بعد عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو مارکیٹ فیس شیڈول روائیز کرنے کے حکم پر عملدرآمد کرانے اور ڈیفالٹ کارخانوں سے اسسٹنٹ کمشنرز کے ذریعے مارکیٹ فیس وصول کروا کے 11 اپریل تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے، واضع رہے کہ درخواستگذاران نے موقف اختیار کیا ہے کہ سیکرٹری ایگریکلچر پرائس کنٹرول / بيورو آف سپلائی نے 2011ع میں مارکیٹ کمیٹی فیس وصولی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے دھان کے اول کیٹگری کارخانوں سے 40 ہزار، دوئم کیٹگری میں سے 30 ہزار اور سوئم کیٹگری کارخانوں سے 20 ہزار روپے وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ موجودہ حالات کے مطابق اول کیٹگری کارخانوں میں سےسالانہ ڈیڈھ لاکھ، دوئم کیٹگری میں سے ایک لاکھ اور سوئم کیٹگری کارخانوں سے 50 ہزار تا 70 ہزار روپے وصولی کی جاسکتی ہے، المیہ یہ بھی ہے کہ سندھ کی مختلف مارکیٹ کمیٹیوں کو کارخانہ مالکان 2011ع کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت مارکیٹ فیس نہیں دے رہے، جس کے باعث مارکیٹ کمیٹیوں کی آمدنی کم ہوگئی ہے، نتیجے میں گذشتہ 12 سال کے دوران دھان و دیگر کارخانوں میں سے 3 ارب 53 کروڑ 53 لاکھ 20 ہزار روپے وصول نہیں ہوئے، اور شوگر ملز کی جانب 3 ارب 73 کروڑ 63 لاکھ 646 روپے بقایاجات ہیں، مارکیٹ فیس وصول نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ کمیٹیاں خسارے کا شکار ہیں، مالی بحران کے باعث سال 2002ع سے لیکر اب تک 325 ملازمین ریٹائرڈ ہوگئے ہیں، کم آمدنی کی بنا پر حاضر سروس ملازمین کو ماہانہ تنخواہ اور ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن دینے میں مشکلات ہوجاتی ہیں، انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مارکیٹ فیس شیڈول روائیز کرا کے ڈیفالٹ کارخانوں سے بقایاجات دلوائی جائیں