October 3, 2026

### **کرکٹ یا عوام کے صبر کا امتحان؟**

20250225_200152

### **کرکٹ یا عوام کے صبر کا امتحان؟**

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کی میزبانی بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے، مگر کیا یہ سب عوام کی مشکلات کے بغیر ممکن نہیں؟ اسلام آباد، جو کہ 22 لاکھ شہریوں کا مسکن ہے، ان دنوں کسی محصور شہر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سڑکوں پر لمبی قطاریں، ہر طرف ٹریفک جام، اہم شاہراہوں کی بندش، اور شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

## **مہمان ٹیم یا عوام کے لیے وبال جان؟**
کرکٹ ایک کھیل ہے، انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہے، مگر جب اس کی قیمت عوام کے صبر اور ذہنی سکون سے وصول کی جائے تو سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔ پی سی بی نے غیر ملکی مہمانوں کی خاطر اسلام آباد کو ایک قلعے میں بدل دیا، جہاں شہری خود کو قیدی محسوس کر رہے ہیں۔ ریڈ زون مکمل طور پر سیل، جی سکس اور لال مسجد کے اطراف کا علاقہ بند، اور وقفے وقفے سے لگنے والے ٹریفک روٹس نے عوام کو ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا ہے۔

## **منٹوں کا سفر گھنٹوں میں، عوام بے بس**
شہر کی سڑکوں پر لمبی قطاریں، روزمرہ کے معمولات درہم برہم، اور ایک طرف وہ لوگ ہیں جو وقت پر اپنی منزل پر پہنچنے کی کوشش میں پریشان کھڑے ہیں، جبکہ دوسری طرف پی سی بی کے عہدیداران اور کرکٹ شائقین اپنی انٹرٹینمنٹ میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کا کیا قصور ہے؟ کیوں ایک کھیل کو یوں مسلط کیا جا رہا ہے کہ شہری خود کو بے بس محسوس کریں؟

## **مایوس کن کارکردگی اور عوام کے زخموں پر نمک**
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کرکٹ کے لیے عوام کو تکلیف میں مبتلا کیا جا رہا ہے، اسی کھیل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی کسی مایوسی سے کم نہیں۔ شائقین جن کی امیدیں اپنی ٹیم سے وابستہ تھیں، انہیں بھی مایوسی کا سامنا ہے۔ ایک طرف قومی ٹیم کی غیر متاثر کن کارکردگی اور دوسری طرف سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کی زندگی اجیرن، یہ دوہرا عذاب آخر کب تک جاری رہے گا؟

## **کھیل عوام کے لیے یا عوام کھیل کے لیے قربان؟**
یہ وقت ہے کہ پی سی بی اور متعلقہ حکام سوچیں کہ کیا کرکٹ کی میزبانی کے لیے عوام کو قربان کرنا ضروری ہے؟ کیا ایسی حکمت عملی نہیں اپنائی جا سکتی جس سے کھیل بھی ہو اور شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر نہ ہو؟ کھیل عوام کی خوشی کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے لیے۔

اگر پی سی بی واقعی کرکٹ کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے، تو اسے عوامی مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، یہ کرکٹ نہیں بلکہ عوام کے صبر اور برداشت کا امتحان بنتا رہے گا۔