235

کیا جگر میں خون بنتا ہے؟ حقیقت یا غلط فہمی؟

کیا جگر میں خون بنتا ہے؟
حقیقت یا غلط فہمی؟

ہمارے ہاں اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے: “فلاں بندے کا جگر خون نہیں بنا رہا!” لیکن کیا واقعی جگر خون بناتا ہے؟ یا یہ صرف ایک عام غلط فہمی ہے؟ آئیے، اس حقیقت کو سادہ اور سائنسی انداز میں سمجھتے ہیں۔

خون کہاں اور کیسے بنتا ہے؟

انسانی جسم میں خون بنانے کا عمل ہڈیوں کے گودے (بون میرو) میں ہوتا ہے۔ یہ گودا جسم کی بڑی ہڈیوں جیسے ریڑھ کی ہڈی، پسلیاں، کولہے کی ہڈیاں اور کھوپڑی کی ہڈیوں میں موجود ہوتا ہے۔ خون بنانے کا عمل ہیماٹوپوئیسس کہلاتا ہے، جس میں بنیادی خلیے مختلف اقسام کے خون میں تبدیل ہوتے ہیں:
سرخ خلیات – آکسیجن پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔
سفید خلیات – بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
پلیٹ لیٹس – خون کو جمنے میں مدد دیتے ہیں۔

کیا جگر میں کبھی خون بنتا ہے؟

اصل میں، پیدائش سے پہلے (ماں کے پیٹ میں) کچھ مہینوں تک جگر میں خون بنتا ہے، لیکن پیدائش کے بعد یہ کام مکمل طور پر ہڈیوں کے گودے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یعنی بالغ افراد میں جگر خون نہیں بناتا، بلکہ خون کے دیگر معاملات میں مدد کرتا ہے۔

پھر “جگر خون نہیں بنا رہا” والی بات کہاں سے آئی؟

یہ دراصل ایک غلط تشریح ہے، جو جگر کے دوسرے کاموں کو خون بنانے سے جوڑ دیتی ہے۔ جگر خون تو نہیں بناتا، لیکن خون کی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے:

آئرن ذخیرہ کرتا ہے – آئرن خون بنانے کے لیے ضروری ہے، اور اگر جگر میں آئرن کم ہو تو خون کی کمی ہو سکتی ہے۔
وٹامن بی 12 اور فولک ایسڈ جذب کرنے میں مدد دیتا ہے – یہ دونوں خون بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
خون صاف کرتا ہے – جگر نقصان دہ مادوں کو نکال کر خون کو صاف رکھتا ہے۔

یہ کہنا کہ “جگر خون نہیں بنا رہا” سائنسی لحاظ سے غلط ہے۔ اصل میں خون ہڈیوں کے گودے سے بنتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں