September 29, 2026

صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی — روایت، تربیت اور متحمل سیاست کا ایک روشن باب خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

IMG-20260929-WA0226

صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی — روایت، تربیت اور متحمل سیاست کا ایک روشن باب

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

بستی سیالاں کی سیاسی، روحانی اور سماجی تاریخ میں سیال خاندان کا نام ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس خاندان نے نہ صرف روحانی وابستگیوں کو آگے بڑھایا بلکہ عوامی خدمت اور سیاسی میدان میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔ اسی خانوادے کے ایک باوقار، متحمل مزاج اور سیاسی بصیرت رکھنے والے فرد صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی ہیں، جن کی شخصیت میں خاندانی تربیت، سیاسی تجربہ، دینی شعور اور عوامی خدمت کے عناصر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی، سابق صوبائی وزیر اوقاف صاحبزادہ غلام نصیر الدین سیالوی کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ آپ 9 اکتوبر 1980ء کو پیدا ہوئے۔ بڑے گھرانے میں پرورش پانے کے باوجود ان کی تربیت محض آسائشوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بچپن ہی سے انہیں عملی زندگی، عوامی رابطے اور سیاسی معاملات سے روشناس کرایا گیا۔ ان کے والد انہیں سیاسی جلسوں اور ڈیرے پر ہونے والے پنچایتی اجتماعات میں ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ نوجوان غلام نظام الدین نے والد سے اس مسلسل مصروفیت کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ شاید ہم یہ وقت نہ دیکھ سکیں، لیکن ایک دن یہ مشق اور تجربہ تمہارے کام آئے گا۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ تربیت محض ایک والد کی خواہش نہیں بلکہ مستقبل کے ایک سیاسی سفر کی بنیاد تھی۔
انٹرمیڈیٹ کے بعد صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی نے شہادت العالمیہ کا کورس مکمل کیا، یوں ان کی شخصیت میں دینی تعلیم اور سیاسی تربیت کا امتزاج پیدا ہوا۔ 2008ء میں انہوں نے پہلی مرتبہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے مدِمقابل سیاسی امیدواروں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی ان کے سیاسی سفر کا اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔
رکن صوبائی اسمبلی کی حیثیت سے انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کے ترقیاتی مسائل پر توجہ دی، جبکہ اپنے والد کی وفات کے بعد منتشر ہونے والے سیالوی سیاسی گروپ کو دوبارہ منظم کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ اس مرحلے پر انہیں درگاہ کے سجادہ نشین اور اپنے بڑے چچا خواجہ محمد حمید الدین سیالوی مرحوم کی رہنمائی اور حمایت حاصل رہی۔ خواجہ محمد حمید الدین سیالوی کا یہ جملہ کہ “میری سیاسی پارٹی غلام نظام الدین ہے” دراصل ان کے اعتماد اور بھتیجے کی سیاسی صلاحیتوں پر یقین کی عکاسی کرتا تھا۔
2013ء میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک مرتبہ پھر ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں انتخابی میدان میں اتارا۔ اس مرتبہ ان کے مدِمقابل تحریک انصاف کے امیدوار سردار غلام علی اصغر لاہڑی تھے، جو دو مرتبہ تحصیل ناظم بھی رہ چکے تھے۔ صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی نے اس مقابلے میں 21 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے لائیو اسٹاک کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس سے قبل وہ ورکنگ کمیٹی برائے تعلیم اور لا اینڈ آرڈر کے رکن بھی رہ چکے تھے۔
ان کے سیاسی دور میں حلقہ انتخاب میں مختلف ترقیاتی منصوبے بھی زیر تکمیل آئے۔ لنگر والا پتن پل، سپیشل ایجوکیشن سنٹر ساہیوال، گرلز ہائی سکول نواں لوک کی اپ گریڈیشن، کوٹلہ رحمان تا دادن چوک کارپٹ روڈ، سرگودھا جھنگ کارپٹ روڈ فیز ون اور ریسکیو 1122 جیسے منصوبوں کے علاوہ متعدد ترقیاتی سکیموں پر بھی کام ہوا۔ ان منصوبوں نے مقامی سطح پر عوامی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کیا۔
صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی کی سیاسی زندگی کا ایک اہم باب 2017ء میں سامنے آیا، جب ختمِ نبوت کے معاملے پر ان کے مربی اور چچا خواجہ محمد حمید الدین سیالوی نے تحریک کا آغاز کیا۔ اس موقع پر صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی نے اپنی جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنے مربی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور پنجاب میں ابتدائی طور پر استعفیٰ پیش کرنے والے اراکین میں شامل ہوئے۔ یہ واقعہ ان کے سیاسی سفر میں ایک ایسا موڑ تھا جس نے ان کی ترجیحات اور خاندانی و روحانی وابستگیوں کو نمایاں کیا۔
2018ء کے عام انتخابات میں وہ بوجوہ عملی طور پر خاموش رہے۔ اسی دور میں ان کے چھوٹے بھائی صاحبزادہ نعیم الدین سیالوی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امیدوار بنے، تاہم وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی کی سیاسی سوچ میں تجربہ رکھنے والے رہنماؤں سے استفادہ کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ وہ ملک خدا بخش ٹوانہ کے طرزِ سیاست اور سیاسی دانش کے قائل ہیں اور ان سے رہنمائی لیتے رہے ہیں۔ ملکی سطح پر وہ میاں شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں اور مختلف معاملات پر ان کی گرفت کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
تاہم صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو شاید ان کا مزاج ہے۔ نوجوان سیاست دان ہونے کے باوجود وہ غیر ضروری جذباتیت اور عجلت کے بجائے تحمل، تدبر اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا دھیما مزاج، شائستگی اور لوگوں کو سننے کی صلاحیت ان کی سیاسی شخصیت کا اہم حصہ ہے۔ سیاست میں جہاں بلند آواز اور فوری ردعمل کو اکثر طاقت سمجھا جاتا ہے، وہاں تحمل اور خاموش مشاہدہ بھی اپنی جگہ ایک سیاسی وصف ہے۔
صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ سیاسی تربیت محض انتخاب جیتنے کا نام نہیں بلکہ عوام کے مسائل کو سمجھنے، لوگوں سے رابطہ رکھنے، حالات کا مشاہدہ کرنے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے کا مسلسل عمل ہے۔ ان کے والد کی ابتدائی تربیت سے لے کر صوبائی اسمبلی کے ایوان تک اور پھر سیاسی نشیب و فراز سے گزرنے تک ان کے سفر میں کئی ایسے مراحل ہیں جنہوں نے ان کی شخصیت کو تشکیل دیا۔
آج بھی حلقہ انتخاب کے عوام کی ایک تعداد ان سے وابستہ توقعات رکھتی ہے۔ مستقبل میں ان کا سیاسی کردار کس سمت آگے بڑھتا ہے، یہ آنے والا وقت طے کرے گا، تاہم ان کا اب تک کا سفر ایک ایسے سیاسی خانوادے کی داستان ضرور ہے جس میں روحانی نسبت، خاندانی روایت، دینی تعلیم، سیاسی تجربہ اور عوامی رابطہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
صاحبزادہ غلام نظام الدین سیالوی — ایک ایسا نام جس کے سیاسی سفر کی بنیاد اقتدار سے زیادہ تربیت، تجربے اور عوامی رابطے پر استوار دکھائی دیتی ہے۔