October 22, 2026

*نماز پڑھنے کا مسنون طریقہ* (گذشتہ سے پیوستہ) بدھ یکم جنوری 2025 انجنیئر نذیر ملک سرگودھا

20241229_144806

*نماز پڑھنے کا مسنون طریقہ*
(گذشتہ سے پیوستہ)

بدھ یکم جنوری 2025
انجنیئر نذیر ملک سرگودھا

مسئلہ نمبر 170
*امام سورہ فاتحہ پڑھ لے تو امام سمیت تمام مقتدیوں کو بیک وقت آمین کہنی چاہیے۔*

مسئلہ نمبر 171
*بلند آواز سے آمین کہنا گزشتہ گناہوں کی مغفرت کا باعث ہے۔*

مسئلہ نمبر 172
*سری قرآت میں آہستہ اور جہری قرآت میں بلند آواز سے آمین کہنا مسنون ہے۔*

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو جس کی آمین کی اواز فرشتوں کی آمین سے موافق ہو گئی اس کے گزشتہ صغیرہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(رواہ بخاری اور مسلم۔)

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب *ولا الضالین* کہتے تو اونچی آواز سے آمین کہتے۔( اسے ابو داؤد نے روایت کی ہے۔)

مسئلہ نمبر 173
*امام کا سورہ فاتحہ کے بعد پہلی دو رکعتوں میں قرآن کی کوئی دوسری سورت یا سورت کا کچھ حصہ تلاوت کرنا چاہیے۔*

مسئلہ نمبر 174
*تمام نمازوں میں امام کو دوسری رکعت کی نسبت پہلی رکعت لمبی پڑھانی چاہیے۔*

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دو سورتیں اور پڑھا کرتے تھے پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو چھوٹا کرتے اور کبھی کبھی کوئی آیت بلند اواز سے پڑھتے جو سنائی دیتی اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں بھی پہلے سورہ فاتحہ پڑھتے اور اس کے علاوہ دو سورتیں یعنی ہر رکعت میں ایک ملا کر پڑھتے اور پہلی رکعت دوسری کی نسبت لمبی کرتے صبح کی نماز میں بھی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری مختصر۔(رواہ بخاری)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ہم ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھتے جبکہ باقی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے۔( اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔)

مسئلہ نمبر 175
*منفرد کو سنت اور نوافل کی تمام رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت ساتھ ملانی چاہیے۔*

مسئلہ نمبر 176
*جہری نماز کی پہلی اور دوسری رکعت میں قرات کی ترتیب واجب نہیں۔*

مسئلہ نمبر 177
*ایک ہی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دو سورتیں ملا کر پڑھنا جائز ہے۔*

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری مسجد قباء میں انصار کی امامت کراتا تھا وہ تمام جہری نمازوں کی ہر رکعت میں پہلے سورہ اخلاص پڑھتا پھر کوئی دوسری سورت پڑھتا ہے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انصار نے اپ کو یہ صورتحال بتائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امام سے دریافت فرمایا کہ تم لوگوں کے کہنے پر عمل کیوں نہیں کرتے اور سورہ اخلاص کو ہر رکعت میں قرآت سے پہلے کیوں پڑھتے ہو انصاری امام نے جواب دیا میں سورہ اخلاص سے محبت رکھتا ہوں اپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورہ اخلاص کی محبت تجھے جنت میں لے جائے گی۔( اسے بخاری نے روایت کیا ہے) ۔

حضرت احنف رحمہ اللہ نے نماز فجر کی پہلی رکعت میں سورہ کہف اور دوسری رکعت میں سورہ یوسف یا سورۃ یونس پڑھی اور بتایا کہ میں نے صبح کی نماز حضرت عمر کے ساتھ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ انہی دو صورتوں کے ساتھ پڑی تھی(اسے بخاری نے روایت کیا ہے)

*الدعاء*
یا اللہ تعالی سب نمازیوں کی نمازیں قبول فرما کر اور انھیں جنت الفردوس عطا فرماء

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 00923008604333