October 9, 2026

عنوان. بہت خوددار ہے یہ دل تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور میں بہت خوددار ہوں.

Screenshot_2026-10-07_200056.747

عنوان. بہت خوددار ہے یہ دل
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
میں بہت خوددار ہوں.
یہ وہ فقرہ ہے جو آپ نے اور ہم نے تقریباً ہر دوسرے شخص سے سنا ہو گا، اور سچ تو یہ ہے کہ ہر شخص ہی اپنی اپنی جگہ پہ خوددار ہے.اور اس میں جھوٹ، مغالطے یا شک و شبے والی بات بھی نہیں ہے ہر شخص جو محنت سے اپنی روزی روٹی کماتا ہے، اپنی ضروریات کے لیے کسی دوسرے کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا وہ سچ میں ہی خوددار ہوتا ہے، سماویا بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پہ تھی اس کی شادی بدقسمتی سے ایک ایسے گھرانے میں ہو گءی جہاں پیٹ کی بھوک کے لالے تو تھے سو تھے پہننے اوڑھنے کا بھی کوی خاص ذوق شوق نہ تھا، ذوق شوق تو گیا بھاڑ میں روپے پیسے کی تنگی نے گھر کے مکینوں کو اس انتہا کا ڈڈرابنا چھوڑا تھا، کوی مانگے تانگے کے کپڑے پہن کر گزارا کرتا تو کوی لنڈا بازار کے کپڑے خرید کر تن ڈھانپنے کا سامان کرتا.اب سماویا جیسی امیر لڑکی کے لیے اس غربت اور تنگدستی میں گزارہ کرنا مشکل ہی نہیں انتہائی مشکل تھا مگر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق سماویا زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھنے کے لیے ہونٹ منہ سی کے صبر کے کڑوے گھونٹ پینے پہ مجبور تھی، کہ اور کوی چارہ نہ تھا. کبھی کبھی صبر کے کڑوے گھونٹ پی کے بھی ہم سرور میں رہتے ہیں، اور کبھی خوشیوں کے ہنڈولے میں بھی اشکوں کی نمی کچھ لوگوں کا مقدر ہوتی ہے، یہ زندگی اسی دھوپ چھایا کا نام ہے،مگر ہم بھلے دھوپ میں ہوں یا چھاوں میں، غم میں ہوں یا خوشی میں، غربت میں ہوں یا امارت میں ہم سب کی خود داری کا ایک بھاری بوجھ، گٹھری کی مانند ہمارے سروں پہ دھرا رہتا ہے، اب اس خودداری کی گٹھری کو کس طرح سے اور کتنی دیر تک اٹھانا ہے یہ ہماری ہمت اور حوصلے پر منحصر ہے. کبھی کبھی ہم اور آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنی انا پہ کاری ضرب سمجھ کے لوگوں سے ہی نہیں اپنے آپ سے بھی ناراض ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو یہ ناراضگی اتنی شدید ہوتی ہے کہ ہم اسی ناراضگی کے ساتھ دنیا کو چھوڑ جاتے ہیں مگر ناراضگی بھی وہیں رہتی ہے اور انا کا بھوت بھی اپنی مسند نہیں چھوڑتا، بہر صورت انا، خودداری،خودنمای، خود پرستی ، غرور ہی کی چند بگڑی ہوی اقسام ہیں، جنہیں ہم اور آپ اپنی اپنی مرضی اور پسند سے اپنے تن پہ اوڑھ بھی لیتے ہیں اور پھر خواہ مخواہ اس برے کام پہ اتراتے بھی پھرتے ہیں، تو بات سماویا کی ہو رہی تھی، سماویاجیسی امیر، لاڈلی اور منہ میں سونے کا نوالہ لے کر پیدا ہونے والی رییس زادی جب غریب گھر کی بہو بنی تو اس بیچاری کو تو دن میں تارے نظر آ گیے، لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ خدا شکر خورے کو شکر دے ہی دیتا ہے تو سماویا کی بڑی بہن جو کہ ایم، این بھی تھی، نے اپنی پیاری سماویا کی وقتاً فوقتاً، غیر محسوس طریقے سے مدد کرنی شروع کر دی، باقی تو سب ٹھیک تھا مگر سماویا کی منجھلی بہن جو ایک نامی گرامی فیشن ڈیزائنر اور بڑے گھر کی بہو تھی نے حسد کی آگ میں خواہ مخواہ ہی جلتے ہی اپنی دونوں بہنوں کے اعمال پہ طعنوں کے نشتر برسانے شروع کر دییے، بڑی بہن پہ یہ فتویٰ لگا دیا گیا کہ وہ چھوٹے بہن بھائیوں سے محبت میں فرق ڈالنے کی خطاوار ہے اور چھوٹی اور غریب بہن پہ یہ فتویٰ لگا دیا کہ وہ بھکارن ہے، غور فرمائیے گا بھلے کوی بہن بھای جتنا بھی امیر ہو یا کوی بہن بھائی جتنا بھی غریب ہو ہم انسان کسی حد تک ہی دوسرے انسانوں کا سہارا بن سکتے ہیں یا کسی مشکل وقت میں دوسرے کا ساتھ دے سکتے ہیں، اس سے بڑھ کر اللہ پاک نے انسان کی اوقات ہی نہیں رکھی، وہ مالک ہی کی شان اور خوبی ہے کہ اس نے اپنے خزانوں کے منہ ہر کس و ناکس کے لیے کھول چھوڑے ہیں. اور میری ہی نظم
سوالی
مانگنے والا تو سوالی یے
در مولا پہ اک موالی ہے
دینے والے کی عطا کیا دے گا
بھر دے گا، اس کے خالی کاسے کو
یا یونہی کاسے کو لوٹا دے گا
تو سماویا کی بڑی بہن خدا خوفی کرتے ہوئے کسی حد تک اپنی چھوٹی بہن کی مدد تو ضرور کرتی تھی لیکن سماویا اپنے چولہے چوکی کی ذمہ داری تو خود ہی اٹھاتی تھی ناں.
تو خدارا، اپنے آپ کو خود دار بھی کہیے اور اپنی خودداری کے نام نہاد بت کی پرستش بھی ضرور کیجئیے مگر دوسروں کی خودداری کے بت پاش مت کیجیے، کیونکہ خودداری ہر انسان کا اپنا اور ذاتی اثاثہ ہوتی ہے. تمام خوددار وں کے نام.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور