October 28, 2026

*اوقات نماز کے مسائل* جمعرات 19 دسمبر 2024 انجنیئر نذیر ملک سرگودھا

20241213_064548

*اوقات نماز کے مسائل*

جمعرات 19 دسمبر 2024
انجنیئر نذیر ملک سرگودھا

مسئلہ نمبر 70
*فرض نماز مقررہ اوقات پر پڑھنی ضروری ہے*

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز اپنے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے پاس سے گزرے تو پوچھا ۔”کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟” صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے تین مرتبہ عرض کیا۔” اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔”آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔” اللہ تعالی کہتا ہے میری عزت و جلال کی قسم جو شخص وقت پر نماز ادا کرے گا میں اسے جنت میں داخل کروں گا اور جس نے بے وقت نماز ادا کی یعنی تاخیر سے نماز پڑھی اسے چاہوں گا تو اپنی رحمت سے معاف کر دوں گا چاہوں گا تو عذاب دوں گا ۔”
اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔

مسئلہ نمبر 71
*نماز ظہر کا اول وقت جب سورج ڈھل جائے اور اخر وقت جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جائے*

مسئلہ نمبر 72
*نماز عصر کا وقت جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو اور آخر وقت جب ہر چیز کا سایہ اس سے دو گناہ ہو جائے*(غروب شمس سےقبل)

مسئلہ نمبر 73
*نماز مغرب کا اول اور آخر وقت روزہ افطار کرنے کا وقت ہے*
(جب مشرق کی طرف سیاہی چھا جائے)

*نوٹ:*
آپ کا فرمان ہے کہ جس نے رکعت کو پا لیا اس نے نماز کو پا لیا یعنی غروب شمس سے پہلے جس نے ایک رکعت کو پا لیا اس نے نماز کو پا لیا(حدیث شریف)

مسئلہ نمبر 74
*نماز عشاء کا اول وقت جب مغرب کی طرف آسمان سے سرخی ختم ہو جائے اور آخر وقت آدھی رات تک*

مسئلہ نمبر 75
*نماز فجر کا اول وقت سحری ختم ہونے تک (پو پھٹنے تک) اور آخر وقت طلوع شمس سے قبل جب روشنی پھیل جائے*

حضرت ابو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ “جبرائیل علیہ السلام نے مجھے دو مرتبہ بیت اللہ شریف کے پاس نماز پڑھائی پہلی مرتبہ نماز ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتی کے تسمہ( تقریبا دو انچ) کے برابر تھا۔ نماز عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور نماز مغرب روزہ افطار کرنے کے وقت پڑھائی ۔نماز عشاء اس وقت پڑھائی جب آسمان سے سرخی ختم ہو گئی۔ اور نماز فجر اس وقت پڑھائی جب روزہ دار کھانا پینا ترک کرتا ہے دوسرے روز جبرائیل علیہ السلام نے پھر نماز پڑھائی اور نماز ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا نماز عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس سے دوگنا ہو گیا اور نماز مغرب افطار کے وقت اور نماز عشاء تہائی رات گزرنے پر پڑھائی نماز فجر روشنی میں پڑھائی پھر جبرائیل علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا “اے محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وقت پہلے انبیاء علیہ السلام کی نمازوں کا ہے اور آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا وقت ان وقتوں کے درمیان ہے ۔اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

*وضاحت*
بعض دوسری صحیح احادیث کے مطابق نماز عصر کا آخری وقت سورج غروب ہونے تک نماز مغرب کا آخری وقت مغربی افق کی سرخی غائب ہونے تک یعنی افطار سے تقریبا 40 منٹ بعد تک۔ نماز عشاء کا آخری وقت آدھی رات تک اور نماز فجر کا آخری وقت سورج طلوع ہونے تک ہے۔

نماز عشاء کا آخری وقت۔
نماز عشاء کا وقت غروب شفق سے لے کر صبح صادق سے پہلے تک رہتا ہے لیکن تہائی رات تک مستحب، نصف شب تک مباح اور اس کے بعد مکروہ تحریمی ہو جاتا ہے

*الدعاَء*
یا اللہ تعالی مجھے اول وقت پر نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرماء

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell:00923008604333