عمرکوٹ (رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی) سندھ زرعی یونیورسٹی عمرکوٹ کیمپس کی میزبانی میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے فلسفے پر پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ “بھٹائی کا امن،
عمرکوٹ (رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی) سندھ زرعی یونیورسٹی عمرکوٹ کیمپس کی میزبانی میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے فلسفے پر پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ “بھٹائی کا امن، بھائی چارہ، برداشت، مذہبی رواداری اور ماحول” کے موضوع پر مشتمل اس کانفرنس میں مختلف سیشنز کا اہتمام کیا گیا، اس موقع پر صوبائی اسمبلی سندھ پ پ پ کے رکن رانا ہمیر سنگھ سوڈھو نے تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی ایک خالق کی بات کرتے ہیں۔ جب ہم خدا کو سمجھ لیں گے تو ہم میں خود بخود امن، برداشت اور رواداری پیدا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے صبر، رواداری اور برداشت کا درس دیا ہے، اور ان کے فلسفے پر عمل کرنے سے انسان بہترین انسان بن سکتا ہے، اس موقع پر افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے کمزور طبقے کی نمائندگی کی ہے۔ امن، برداشت، مذہبی رواداری اور بہتر ماحول سب کے لیے ضروری ہیں، اس لیے ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہیے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تمام مذاہب کے لوگ موجود ہیں اور مذہبی آزادی کا انحصار دوسروں کے عقائد کے احترام پر ہے، اس موقع پر سب کیمپس عمرکوٹ کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر جان محمد مری نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے عورت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کردار کے طور پر پیش کیا۔ بھٹائی نے قوم کو جدوجہد کے لیے متحرک کیا، نامور ادیب اور لطیفی دانشور نور احمد جھنجھی نے کہا کہ نظریاتی تضادات کی وجہ سے بحران پیدا ہوئے ہیں، اس لیے کمزوروں کا استحصال نہیں ہونا چاہیے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا فلسفہ لوگوں کو ان بحرانوں سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھٹائی نے ماحولیات پر بھی گہری نظر رکھی ہے اور “سر سارنگ” میں موسموں، بارشوں اور موسمی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا، مشھور ادیب میر حسن آریسر نے کہا کہ بھٹائی پر وہ تحقیق ابھی تک نہیں ہو سکی جو ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی شاعری میں مرد عاشق جبکہ بھٹائی کی شاعری میں عورت کو عاشق دکھایا گیا ہے، کانفرنس کی کارروائی امتیاز نور کنبھر، زاہد کاکا اور صائمہ بھٹو نے سنبھالی۔ اس موقع پر میرپورخاص یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق میمن، ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر، غلام مصطفی کھوسو، ڈاکٹر عبدالعزیز کنبھر، مجید منگریو سمیت بڑی تعداد میں دانشوروں، ادیبوں اور محققین نے شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز امن کے کبوتر اڑا کر کیا گیا، افتتاحی تقریب کا اختتام ڈاکٹر بشارت لانجھوانی نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی “وائی” کے ساتھ کیا، اس موقع پر پہلے پینل ڈسکشن میں بات کرتے ہوئے معروف لکھاری امر سندھو نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ جاننے کے لیے محنت کرنی چاہیے کہ بھٹائی کے دور میں کیا چیلنجز تھے اور بھٹائی نے اس کے لیے کیا کیا۔ انہوں نے کہا کہ لطیف ہر دور کے لیے لازم ہے اور اس کا پیغام آج بھی متعلقہ ہے، ڈاکٹر فیاض لطیف چانڈیو نے کہا کہ آج کے نوجوان بھٹائی کی زبان کو مشکل سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زبان سے دور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھٹائی کی شاعری کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نوجوانوں کی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، ڈاکٹر حسین مسرت نے کہا کہ نصاب میں لطیف کو پڑھایا نہیں جاتا اور چند اشعار کے ذریعے ان کی مکمل سمجھ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لطیف نے عورت کو مضبوط کردار کے طور پر پیش کیا ہے اور ان کے کاروباری کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، مذہبی رواداری کے حوالے سے دوسرے پینل ڈسکشن میں مرزا قلیچ چیئر کے ڈائریکٹر نواب کاکا نے کہا کہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی جیسا عظیم مفکر ہماری زبان میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم برداشت کی وجہ سے امن، ثقافت اور معاشرت متاثر ہو رہی ہے، نامور فنکار حسام میرانی نے کہا کہ بھٹائی نے محنت کش کرداروں کو اہمیت دی ہے، نامور ادیب جلال کوری نے کہا کہ بھٹائی نے تمام مذاہب کا مشترکہ پیغام دیا ہے اور ان کی شاعری کی وجہ سے سندھی زبان ہمیشہ قائم رہے گی، پروگرام کی میزبانی نصیر مرزا نے کی۔