October 28, 2026

ایک بار پھر اسرائیل کی دمشق کے المزہ ملٹری ایئرپورٹ پر بمباری اسرائیل

20241212_165831

ایک بار پھر اسرائیل کی دمشق کے المزہ ملٹری ایئرپورٹ پر بمباری
اسرائیل
شام

گزشتہ دو دنوں کے دوران شام کے مختلف علاقوں پر سینکڑوں حملوں کے بعد اسرائیل نے دارالحکومت دمشق کے المزہ فوجی ہوائی اڈے پر دوبارہ بمباری کردی۔ العربیہ کے نامہ نگار نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ دنوں متعدد بار بمباری کے بعد دارالحکومت کے جنوب مغرب میں واقع المزہ ملٹری ایئرپورٹ پر پھر دھاوا بول دیا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے ’’العربیہ‘‘ کو واضح کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے گزشتہ اتوار کی صبح سے ملک بھر میں 350 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

شامی فوج کے اثاثے تباہ
رامی عبد الرحمن نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان حملوں نے انتہائی اہم فوجی مقامات اور شامی فوج کے اثاثوں کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ اسرائیلی بمباری میں ہوائی اڈوں، گوداموں، طیاروں کے سکواڈرن، ریڈار، فوجی سگنل سٹیشن، ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپو، سائنسی تحقیقی مراکز اور فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اللاذقہ بندرگاہ بھی
اسرائیل نے ملک کے شمال مغرب میں واقع اللاذقہ بندرگاہ میں ایک فضائی دفاعی تنصیب اور جنگی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔ العربیہ کا کیمرا منگل کو بندرگاہ کو ہونے والے بڑے نقصان کو سامنے لایا تھا۔

بڑی تباہی
اسرائیلی فوج نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں کے اندر سینکڑوں حملے کیے ہیں جس سے بڑی تباہی ہوئی ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے 48 گھنٹوں کے اندر شام میں سٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخیرے پر حملہ کیا۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ فضائیہ نے مختلف قسم کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی بیٹریوں، شامی فضائیہ کے ہوائی اڈوں اور دمشق، حمص، طرطوس، اللاذقیہ اور دیگر علاقوں میں مختلف پیداواری مقامات پر درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے تقریبا 350 فضائی حملے کیے ہیں۔

یاد رہے اسرائیل نے 1967 میں شامی سطح مرتفع کے سب سے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور 1981 میں اس کے الحاق سے قبل 1973 کی جنگ میں شام کے حملے کو پسپا کر دیا