اصغر خان کیس: آئینی بینچ نے سیاسی سیل کے خاتمے سے متعلق حساس اداروں کے سربراہان کے بیان حلفی مانگ لیے
اصغر خان کیس: آئینی بینچ نے سیاسی سیل کے خاتمے سے متعلق حساس اداروں کے سربراہان کے بیان حلفی مانگ لیے
پاکستان کی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے حکم دیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) عدالت کو مطمئن کرے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگیا ہے۔
منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رُکنی آئینی بینچ نے اصغر کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو مطلع کیا کہ حساس اداروں میں قائم سیاسی سیل سیریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ختم کر دیے گئے تھے۔
آئینی بینچ کے رُکن جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا حساس اداروں کے سربراہان نے سیاسی سیل ختم کرنے کا بیان حلفی دیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انھیں جواب دیا کہ حساس اداروں کا آئین و قانون کے تحت سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے۔
اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر پہلے بیانِ حلفی نہیں لیا گیا تو حساس اداروں کے سربراہان سے آج بیان حلفی لے لیں۔
خیال رہے پاکستان کی سپریم کورٹ نے سیاست دانوں میں 1990 کے انتخابات کے دوران رقوم کی منتقل کے حوالے سے دائر اصغر خان کیس کا فیصلہ 19 اکتوبر 2012 کو سُنایا تھا۔
اس مقدمے کے مدعی اصغر خان چھ سال قبل وفات پا گئے تھے اور منگل کو عدالت کے سامنے ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حساس اداروں میں سیاسی سیل تھے اور جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی اور یونس حبیب نے الیکشن چوری کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے اصغر خان کیس میں انکوائری بندی کر دی ہے۔
آئینی بینچ کے رُکن جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا سیاستدانوں میں تقسیم رقم ریکور کرلی گئی تھی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کی انکوائری میں رقم کی تقسیم کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
عدالت نے حکم دیا کہ وزارتِ دفاع بھی اس معاملے پر آئینی بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ جمع کروائے۔
اصغر خان کیس کے فیصلے میں کہا گیا گیا تھا؟
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ انتخابی عمل کو آلودہ کرنا اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ اور انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کا انفرادی عمل تھا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف فوج کے دونوں اعلیٰ عہدیداران نے نظرِثانی درخواستیں بھی جمع کروائی گئی تھیں جنھیں مسترد کر دیا گیا تھا۔
اصغر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ سنہ 1990 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سابق چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے اور اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی تشکیل کے لیے فوج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو پیسے دیے تھے۔
اپنے مختصر فیصلے میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئی تھیں اور جو سیاست دان اُن رقوم سے مستفید ہوئے اُن کی بھی تحقیقات کی جائیں۔
سپریم کورٹ کے حکم میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس قانون کے مطابق اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے سرحدوں کا تحفظ کرسکتی ہیں یا حکومت کو مدد فراہم کر سکتی ہیں لیکن اُن کا سیاسی سرگرمیوں، سیاسی حکومتوں کے قیام یا اُنھیں کمزور کرنے میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے