اللہ تعالی اس شخص کی طرف نہیں دیکھیں گےجس نے اپنا *کپڑا تکبر کے ساتھ* اپنے ٹخنوں سے نیچے لٹکایا( متفق علیہ)
اللہ تعالی اس شخص کی طرف نہیں دیکھیں گےجس نے اپنا *کپڑا تکبر کے ساتھ* اپنے ٹخنوں سے نیچے لٹکایا( متفق علیہ)
بدھ 11 دسمبر 2024
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
وبرکاتہ۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ دوران نماز کچھ نمازیوں کے آزار ٹخنوں سے نیچے ڈھلکے ہوتے
ہیں اور کچھ لوگ نیکی کمانے کی نیت سے ان کے ڈھکے ہوئے کپڑے سے ٹخنے ننگے کرنے کی شدومد سے تلقین کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ نہ تو حدیث کا متن جانتے ہیں اور نہ ہی حدیث نبوی الشریف کا مقصد سمجھ رہے ہوتے ہیں بس اچھے بھلے نمازی کو ٹوک کر اپنا ثواب پکا کر رہے ہوتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اس بے جا تنقید کی وجہ سے اچھا بھلے نمازی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کے مہمان کی بے ادبی کا باعث بن رہے ہوتے ہیں اور یہ تنقید کرنے والے نہ تو نمازی کی عمر کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی رتبے کا ایسے لوگوں کو ثواب تو کجا نمازی پر بے جا تنقید کا گناہ ملے گا۔
آیئے حدیث نبوی کے الفاظ کا جائزہ لیتے ہیں
وعن ابن عمر رضی اللہ عنھماقال رسول اللہ ﷺ لا ینظر اللہ الی من جر ثوبہ خیلاء (متفق علیہ)
ترجمہ:
ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اللہ تعالی اس شخص کی طرف نہیں دیکھیں گےجس نے اپنا کپڑا *تکبر کے ساتھ* لٹکایا( متفق علیہ)
خیلاء کے معنی تکبر کے ہیں۔ دیکھے گا کا مطلب یہ ہے کہ رحمت اور محبت کی نظر سے نہیں دیکھے گا کیونکہ اللہ کی نظر سے کوئی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔۔۔وجہ یہ ہے کہ متواضع و مسکین مہربانی کی نظر کا حق دار ہوتا ہے اور متکبر و مغرور قہر کی نظر کا مستحق ٹھہرتا ہے
فرمانِ الہی ہے
ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا
یقینا اللہ تعالی تکبر کرنے والے شیخی خور کو پسند نہیں کرتا
ابوذرغفاری سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا
ثلاثة لا یکلھم اللہ یوم القيامة ولا یزکیھم ولھم عذاب الیم ۔۔۔المسبل والمنان والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب (مسلم)
تین آدمی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام کرے گا نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے عذاب الیم ہے( کپڑا ) لٹکانے والا‘ احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کے ساتھ اپنا سامان بیچنے والا۔
زیر نظر حدیث میں من جر ثوبہ کے الفاظ ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپﷺ نے صرف چادر لٹکانے سے منع نہیں کیا بلکہ قمیص شلوار یا کوئی بھی کپڑا تکبر اور غرور سے جو لٹکایا جائے اس سے منع فرمایا ہے
کپڑا لٹکانے پر یہ وعید عمومی ہے ۔۔۔۔مرد عورتیں دونوں اس میں داخل ہیں اور سنت کا حق تو یہ ہے کہ اپنے کپڑے نماز اور نماز سے باہر ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکائے جائیں۔
ام سلمہ نے اس حدیث سے یہی بات سمجھی چنانچہ ترمذی اور نسائی میں ابن عمر کی اس روایت کے ساتھ ہی یہ الفاظ ہیں
مَن جرَّ ثوبَه مِن الخُيَلاءِ لم يَنْظُرِ اللهُ إليه ، قالت أمُّ سَلَمَةَ : يا رسولَ اللهِ ، فكيف تَصْنَعُ النساءُ بذيولهن ؟ قال : تُرْخينَه شِبْرًا . قالت: إذا تَنْكَشِفُ أقدامُهنَّ. قال : تُرْخِينَه ذِراعًا لا تزِدْنَ عليه.
الراوي: عبدالله بن عمر المحدث: الألباني – المصدر: صحيح النسائي – الصفحة أو الرقم: 5351
ام سلمہ نے کہا کہ عورتیں اپنے دامن کا کیا کریں ۔۔۔آپﷺ نے فرمایا ایک بالشت لٹکا لیا کریں ۔۔انھوں نے عرض کیا کہ اس صورت میں ان کے پاؤں کھل جائیں گے آپﷺ نے فرمایا تو ایک ہاتھ لٹکا لیں اس سے زیادہ نہ لٹکائیں
اس سے معلوم ہوا کہ جو مرد و خواتین کئی گز لمبا کپڑا اپنے پیچھے گھسیٹے ہوئے چلتے ہیں خصوصا شادی کے موقع پر خواتین وہ بھی اس وعید میں شامل ہیں۔۔۔یورپی اقوام میں اور ان کی دیکھا دیکھی مسلمان عورتوں میں بھی یہ رسم بد چل پڑی ہے کہ شادی کی تقریبات میں کئی گز لمبے غرارے پہنتی ہیں کبھی ٹیل سٹائل کی صورت میں اور کبھی فش سٹائل کی طرز پر اور کبھی کبھار دوپٹہ فرش پر جھاڑو دے رہا ہوتا ہے۔۔۔اور بعض اوقات اسے کئی عورتوں نے اٹھا رکھا ہوتا ہے جو ساتھ ساتھ چلتی جاتی ہیں۔۔۔۔نمود و نمائش اور کبر و نخوت کی ماری ہوئی یہ عورتیں ہیں جو اللہ کی نگاہ رحمت سے محروم ہیں
عورت مردوں کی طرح اپنے ٹخنے ننگے نہ رکھے بلکہ پاؤں کو چھپائے مگر ایک ہاتھ (بالشت) سے زیادہ کپڑا نہ لٹکائے ۔۔۔بہتر یہ ہے کہ ایک بالشت ہی لٹکائے۔
جس نے اپنا کپڑا تکبر کے ساتھ کھینچا سے معلوم ہوا کہ تکبر کے بغیر کسی کا کپڑا نیچے چلا جائے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔۔۔چنانچہ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر سے مروی ہے کہ آپﷺ کا یہ فرمان سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا۔۔۔یا رسول اللہ ٰ! میری چادر کا ایک کنارہ لٹک جاتا ہے سوائے اس کے کہ میں اس کا خیال رکھوں تو آپﷺ نے فرمایا
انک لست ممن یصنعہ خیلاء
*تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو یہ کام تکبر سے کرتے ہیں*
حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے
کان ابو بکر احنی لا یستمسک ازارہ یسترخی عن حقویہ
ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا قد جھکا ہوا تھا ۔۔۔اپنی چادر تھام نہیں سکتے تھے۔۔وہ ان کے کولہوں سے ڈھلک جاتی۔
اب صاف ظاہر ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ جان بوجھ کر چادر نیچے نہیں لٹکاتے تھے۔۔۔کبھی کبھی بے توجہی ہو جاتی تو نیچے ڈھلک جاتی ۔۔۔اس طرح اگر کسی کی چادر ڈھلک جائے تو نہ یہ تکبر ہے اور نہ اس پر مواخذہ ہے۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پتلون پہننے والے لوگ دوران نماز اپنی پتلون کے پائنچے الٹے موڑ لیتے ہیں اور یہ لباس کے ساتھ بد تہذیبی ہے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لباس کو ایسے پہنو جیسے اس کے پہننے کا حق ہے۔
اب حاصل بحث یہ نکلا کہ اگر سنت پر عمل کرنا ہے تو پھر نماز اور نماز سے باہر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرح اپنا آزار پنڈلی تک رکھیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نےمومن کی چادر کا مقام پنڈلی کا عضلہ مقرر فرمایا ہے۔۔۔۔زیادہ سے زیادہ ٹخنے کے اوپر تک رکھنے کی اجازت دی اور اس سے نیچے لٹکانا منع فرمایا
بطور دلیل چند احادیث پیشِ خدمت ہیں
وارفع ازارک الی نصف الساق فان ابیت فالی الکعبین وایاک واسبال الازار فانھا من المخیلۃ وان اللہ لا یحب المخیلۃ (ابو داؤد)
اور اپنے چادر نصف پنڈلی تک اونچی رکھو اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اور چادر لٹکانے سے بچو کہ یہ تکبر سے ہے اور اللہ تعالی تکبر کو یقینا پسند نہیں فرماتا۔
*الدعاء*
یا اللہ تعالی ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرماء اور سنت نبوی کے عین مطابق اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماء۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333