October 28, 2026

*وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باســــی* *اپنی جان ومال سے گئے ساتھ رزق کمانے سے گئے۔*

20241209_165410

*وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باســــی*
*اپنی جان ومال سے گئے ساتھ رزق کمانے سے گئے۔*
*دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو!*
*کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے۔*

الیکشن میں دھاندلی سے جو مسلے مسائل پیدا ہوے اور ہوتے ہیں اسکے حوالے سے کرپٹ اشرافیہ کو اندازا نہیں ہؤا کہ یہ اثرات کتنے دور تک جا سکتے تھے ۔
کرپٹ اشرافیہ کا وجود تعفن کا دودھ پیتا ہے درندگی کے ڈھول پہ ناچتا ہے، اس نے دھاندلی کو چھپانے کیلئے اور اپنے منھ سے کالک دھونے کیلئے ملک کے سسٹم کو ہی داؤ پر لگا دیا ۔
کرپٹ اشرافیہ نے جائز ناجائز طریقے سے قانون بدلے دھونس اور دھاندلی، ہارس ٹریڈنگ کی لعنت سب کچھ استعمال کیا قانون بدلے گئے ، ججز بدلے گئے
لیکن لیکن
افسوس تعفن پشاور سے لے کر پنجاب اور پھر سندھ تک ایسے پھیلا کہ ختم ہی نہیں ہو پا رہا ہے ۔

دھاندلی کا تعفن رہا وہیں کا وہیں!
جلایا کمرے میں لوبان اور عود بہت !