انتخاب،، ایم اسحاق ہمارے محلے میں بائیس چوبیس سال کا ایک نو عمر لڑکا ہے جو سارا دن سڑکوں پر پھرتا رہتا ہے. اس کا جسمانی (اور شاید ذہنی) توازن بھی درست نہیں.
انتخاب،، ایم اسحاق
ہمارے محلے میں بائیس چوبیس سال کا ایک نو عمر لڑکا ہے جو سارا دن سڑکوں پر پھرتا رہتا ہے. اس کا جسمانی (اور شاید ذہنی) توازن بھی درست نہیں.
وہ ایک سائڈ پر جُھک کر ایسے چلتا ہے کہ جیسے چلتے چلتے آپ پر گر جائے گا. یہ لڑکا باقاعدگی سے قریبی مسجد بھی جاتا ہے. تبلیغی اور دیگر حضرات سے سنجیدہ گفتگو بھی کرتا نظر آتا ہے. مگر ایک بات جو متعدد بار نوٹس کی گئی یہ جہاں بھی کوئی اہل تشیع دیکھتا ہے تو “کافر کافر شیعہ کافر” کہنے لگتا ہے. اگر اسے کسی پر تھوڑا سا شبہ ہو کہ وہ اہل تشیع ہے تو بھی یہ اس کے پاس سے گزرتے یہ الفاظ ضرور دوہراتا ہے. بھلے وہ شخص اس بات کرے نہ کرے.
آج ابھی پارک میں یہ پھر ایک مزدور لڑکے کو اونچا اونچا کافر کافر شیعہ کافر کہتا چلا جا رہا تھا اور وہ لڑکا جواب میں اونچی آواز میں “یا علی” کہتا چلا جا رہا تھا. پھر کسی نے مزدور کو جھڑک کر چپ کروا دیا کہ تم چپ کرو تو، وہ چلا گیا.
اب بات سوچنے کی یہ ہے کہ نہ تو اسے تبلیغی کوئی سبق دے سکے نہ دیو بند مسجد والے، امام، مسجد کہ تو سر عام فرقہ واریت کیوں پھیلاتا پھر رہا ہے.
اکثریت اسے پاگل سمجھ کر خاموش ہو جاتی ہے کہ اسے کیا کہیں. اور کچھ سہم کر چپ ہو جاتے ہیں کہ یہ تو پاگل بن کر چُھوٹ جائے گا مگر مذہبی شدت پسند انھیں دھر لیں گے.
یقیناً یہ لڑکا ہی محض ذہنی جسمانی معذور نہیں اس کے والدین اس کے گھر والے بھی ذہنی معذور ہونگے جو اسے نارمل انسان تو بنا نہ سکے مگر اس میں فرقہ وارانہ نفرت کوٹ کوٹ کر بھر دی.
اس سب کو وٹنس کرنے بعد جب مجھے کوئی ناچتے گاتے دھمال ڈالتے بے ضرر ملنگوں پر معترض نظر آتا ہے تو میں اس کو اُلو کا پٹھہ سمجھتا ہوں.
باقی آمریت کے پالے دستور سازوں کے سروں میں بھی اگر بھیجہ نام کی کوئی شے موجود ہے تو روز آزادی اظہار پر پابندی لگانے کی بجائے ایسے سنجیدہ اشوز پر قانون سازی کریں!