#شامی_فوج کی شہروں سے تیزی #پسپائی اور #اسد_رجیم کا #سقوط اتنا جلدی کیوں ہوا؟ شامی فوج کا روس، ایران ، حزب اللہ اور الحشد ملیشیا پر بہت زیادہ انحصار، تربیت ، وسائل اور افرادی قوت میں کمی نے بشارالاسد کا تختہ الٹنے اور فوج کی پسپائی میں اہم کردار ادا کیا: ماہرین شام
#شامی_فوج کی شہروں سے تیزی #پسپائی اور #اسد_رجیم کا #سقوط اتنا جلدی کیوں ہوا؟
شامی فوج کا روس، ایران ، حزب اللہ اور الحشد ملیشیا پر بہت زیادہ انحصار، تربیت ، وسائل اور افرادی قوت میں کمی نے بشارالاسد کا تختہ الٹنے اور فوج کی پسپائی میں اہم کردار ادا کیا: ماہرین
شام
قاہرہ ۔
شام کے ٹیلی ویژن کی طرف سے سرکاری طور پر’اسد رجیم‘ کے سقوط کے اعلان کرنے کے بعد آج اتوارکی صبح انقلاب کی فتح اور صدر بشار الاسد کی افواج کی شکست کے اسباب و محرکات پر بحث جاری ہے۔ یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا کئی دھائیوں سے شام کی اقتدارپر قابض اسد رجیم اس تیزی کے ساتھ کیسے ختم ہوگئی؟۔
شامی فوج نے شہروں سے انخلاء کیوں کیا؟ اتنی جلدی کیوں گرا؟
ان سوالات کے جوابات مصری عسکری ماہر میجر جنرل حرب ہیثم حسین جو کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے مشیر ہیں نے ’العربیہ ‘ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے دیے۔ انہوں نے کہا کہ اسد رجیم کا سقوط اچانک اور جس برق رفتاری کے ساتھ ہوا وہ بلا شبہ حیران کن ہے۔ یہ سقوط اتوار 8 دسمبر 2024ء کو طلوع فجر کے وقت اسد کے اقتدار سے دستبردار ہونے اور کسی نامعلوم منزل کی طرف فرار ہونے کے ساتھ ہوا۔ وہ ممکنہ طور پر روس کی طرف گئے ہیں۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ (سرکاری) شامی مسلح افواج پر جو تیزی کے ساتھ پسپا ہوتی ہوئی اپوزیشن دھڑوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ اس کی ایک وجہ 14 سال قبل شامی مسلح افواج کے اہم جزو کو کھو دینا ہے، کیونکہ سنہ 2011ء میں شامی انقلاب کے پھوٹ پڑنے کے بعد فوج کی بڑی تعداد کے منحرف ہونے سے شامی فوج کو ایک بڑا دھچکا لگا تھا‘‘۔
ہیثم حسین نے مزید کہا کہ “اس کے علاوہ اندرونی طور پر تباہ حال شام میں خراب اقتصادی صورتحال کے باعث ایک دہائی سے زائد عرصے سے ان افواج کو تیار کرنے، اس کی عسکری معاونت اوروسائل کی واضح کمی موجودہ لڑائی میں تیزی سے پسپائی کا باعث بنی‘‘۔
مصری عسکری ماہر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ “ان شامی فوجی دستوں کا حزب اللہ ، الحشد الشعبی اور روسی فوج کی موجودگی پر انحصار شامی فوج کی پسپائی کا باعث بنا۔ ان غیرملکی قوتوں پر انحصار نے شامی فوج کو معنوی طور پر اندر سے کھوکھلا کردیا تھا اور سپاہیوں کا لڑنے کا جذبہ ختم ہوچکا تھا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ دو روز قبل جب روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام کی حساس صورت حال کے باوجود کہا کہ ماسکو کے پاس شام کی مدد کا کوئی فوری منصوبہ نہیں۔ اس بیان نے شامی کے حوصلے مزید پست کردیے اور فوج کی پسپائی کی رفتار میں مزید اضافہ کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ ایران یا روس نے شام کو ترک کر دیا اور اس کی حکومت کو گرنے دیا، لیکن یہ اس ہو سکتا ہے کہ لبنانی حکومت پر امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے بین الاقوامی دباؤ کے اثرات اسد رجیم پر بھی پڑے۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بیری پر حزب اللہ کے صف اول کے رہ نماؤں کو ختم کرنے میں اسرائیل کی کامیابی نے دباؤ میں اضافہ کیا مگر پچھلے چھ ماہ سے اسرائیل نے جس تیزی کے ساتھ حزب اللہ کی قیادت کے فعال ڈھانچے میں پہلی، دوسری اور تیسری قیادت کو بھی نشانہ بنایا تو اس کے شامی فوج کے مورال پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اور امریکہ کے درمیان خفیہ مفاہمت کی کوششوں نے بھی شامی فوج کے حوصلے پست کیے۔ خاص طور پر گذشتہ ماہ جب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی ارب پتی ایلون مسک اوراقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیر ایروانی کے درمیان ملاقات کی خبریں سامنے آئیں تو اس پر کئی سوالات بھی اٹھے۔
مصری دانشور نے اپنے بیانات مزید کہا کہ “جہاں تک روس کا تعلق ہے ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ روسی سفید ریچھ جنگوں سے تھک چکا ہے۔ یوکرین میں اس کی جنگ کا تیسرا سال ختم ہونے کو ہے۔ ماسکو کا خیال ہے کہ شام میں اس کے خلاف ایک سازش رچی گئی ہے، جو اس کی صلاحیتوں کو ایک اور طریقے سے ختم کر رہی ہے اور جو اس کی توانائیاں سمجھ نہیں سکتیں۔ اس کے باوجود کہ وہ اسد حکومت کی واضح نزاکت کا یقین رکھتا ہے۔ شاید روس شامی فوج کی کمزوری کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اسد رجیم کے سقوط سے قبل ہی کہہ دیا تھا کہ اس کا بشارالاسد کی حکومت بچانے اور اس کی مدد کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے