*مکتوب خادم* *غزہ اسلام کا معجزہ ہے*
*مکتوب خادم*
*غزہ اسلام کا معجزہ ہے*
تھوڑا سا غور فرمائیں…”غزہ“ جن حالات میں استقامت کے ساتھ کھڑا ہوا ہے…کیا کوئی اور شہر ایسے حالات میں کھڑا رہ سکتا ہے؟…صرف ستاون مربع میل کا ایک چھوٹا سا شہر…ایک طرف سمندر اور باقی ہر طرف دشمن…نہ نکلنے کی کوئی جگہ…نہ پناہ کا کوئی راستہ…آسمان کی طرف سے مسلسل بمباری…لمحوں میں برستے سینکڑوں میزائل…زمین پر دشمن کا محاصرہ…ہر طرف دندناتے خوفناک ٹینک… بارش کی طرح برستی گولیاں…فضاء سے بذریعہ سیٹلائٹ نگرانی…سمندری راستے پر متعین دشمنوں کے بحری بیڑے…زمین پر نہ کوئی مددگار…نہ کوئی پناہ گاہ…روزانہ درجنوں جنازے…رہنے کے لیے نہ مکانات اور نہ خیمے…ہر طرف ملبہ ہی ملبہ…اور قبریں ہی قبریں…شہداء کرام کے لباس ہی ان کے کفن…اور زخمیوں کا خون ہی ان کی دواء…خوراک بہت محدود…اور ہر زندہ شخص پر کسی بھی لمحے موت کے گرنے کا ہر گھڑی خوف……
یقین جانیں…کوئی اور شہر ہوتا تو کبھی کا گر چکا ہوتا…لوگ سفید کپڑوں کو لاٹھیوں پر لگا کر جھنڈے بناتے…اور انہیں لہرا لہرا کر دشمن سے امن کی بھیک مانگتے…اہل شہر ہزار دو ہزار جنازوں کے بعد جمع ہوتے اور دشمن کے قدموں میں گر جاتے…شہر کے لوگ ”مجاہدین“ کو اپنے گھروں سے نکال دیتے… یا پکڑ کر دشمنوں کے حوالے کردیتے…ہسپتالوں کے ڈاکٹر اور نرسیں زخمیوں کے علاج سے ہاتھ اُٹھا لیتے…اور دشمنوں سے پناہ کی درخواست کردیتے…مساجد سے اعلان ہوتا کہ… یہ جہاد نہیں فساد ہے… یہ جہاد نہیں خودکشی ہے…لوگ علماء کرام کو مجبور کرتے کہ اس جہاد کے خلاف فتویٰ دیں…کیونکہ مجاہدین کسی بھی طرح دشمن کے ہم پلہ نہیں…اور دشمن ان مجاہدین سے دوگنا نہیں…ہزار گنا زیادہ ہیں…اور ”مقاومت“ کی استعداد موجود نہیں…شہر کے لڑکے اور لڑکیاں…سوشل میڈیا پر مجاہدین کے خلاف ایسا زہر اگلتے کہ لوگ اسے پڑھ پڑھ کر…مجاہدین سے نفرت کرتے…اور کہتے کہ انہوں نے اپنی قوم کو مروا دیا…اور اپنے شہر کو کھنڈر بنوا دیا……
ہاں یقین کریں…اس وقت یہ حالات مسلمانوں کے کسی بھی اور شہر پر ہوتے…تو اب تک اس شہر کے باسی…خود مجاہدین کو مار چکے ہوتے… پکڑوا چکے ہوتے…اور یرغمالیوں کو تلاش کرکے دشمن کے حوالے کر چکے ہوتے…اور ”امن“ کی خاطر…کسی ذلت نامے… یعنی معاہدے پر دستخط کر چکے ہوتے…مگر ”غزہ“ ان حالات میں بھی کھڑا ہوا ہے الحمدللہ ثم الحمدللہ…”غزہ“ کا سر پہلے سے بھی بلند ہو چکا ہے…اور اس کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے…اور وہ یہ کہ…”غزہ“ مسلمان ہے…”غزہ“ اسلام ہے…”غزہ“ تفسیر قرآن ہے…مطلب یہ کہ…اہل غزہ…سچے مسلمان ہیں…اور سچا مسلمان یہی کرتا ہے جو وہ کررہے ہیں…غزہ والے مسلمان ہیں…اور ہر مسلمان مجاہد ہوتا ہے…عالم بھی مجاہد…عوام بھی مجاہد…سیاستدان بھی مجاہد…ڈاکٹر اور نرسیں بھی مجاہد…مرد بھی مجاہد…عورتیں بھی مجاہد…اور تو اور بچے بھی مجاہد…اسی لیے نہ کسی نے کسی کو پکڑ کر دشمن کے حوالے کیا…نہ کسی نے یرغمالیوں کی مخبری کی…نہ کسی نے سفید جھنڈے لہرا کر امن کی بھیک مانگی…اور نہ کسی نے دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکے…دیگر جہادی محاذوں کی طرح غزہ والوں کے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں تو انہوں نے…شہادت اور عزیمت کو ہی اپنی پناہ گاہ بنالیا…ان کا زمین پر کوئی عملی مددگار نہیں تو انہوں نے اپنی ساری امیدیں عرش والے کے ساتھ جوڑ لیں…ان کے پاس رہنے کے لیے مکانات نہیں تو انہوں نے زمین کو ہی اپنا گھر اور بستر بنالیا…ان کے پاس کھانے پینے کی کمی ہے تو انہوں نے مل بانٹ کر کھانا سیکھ لیا…ان کا دشمن ہر طرح کی ٹیکنالوجی سے لیس ہے تو انہوں نے فدائی جہاد کو اپنا ہتھیار بنالیا…ان کے پاس شہداء کے لیے کفن نہیں تو انہوں نے اپنے کپڑوں کو ہی کفن سمجھ لیا…سچ کہتا ہوں…دل سے کہتا ہوں کہ…غزہ والوں نے جینا بھی سیکھ لیا…اور مرنا بھی سیکھ لیا…جینا ایسا شاندار جو دنیا میں اس وقت کسی کو نصیب نہیں…اور مرنا ایسا جاندار جو…زندگی سے بھی زیادہ لذیذ اور حسین ہے…کاش غزہ والوں جیسا ایمان اور اسلام…مسلمانوں میں آجائے تو پھر دنیا میں کوئی اور سپر پاور نہ رہے…اور اسلام کا نظام دنیا پر چلے…اس زمین پر کسی نے نہیں رہنا…جو ذلت اور غلامی میں جی رہے ہیں وہ بھی مر جائیں گے…اور جو ”غزہ“ کے ایمان میں جی رہے ہیں وہ بھی مرجائیں گے…مگر قیامت کے دن…جب غزوہ بدر، احد اور احزاب کے سپہ سالار…ﷺ سے شفاعت کے جام مل رہے ہوں گے تب فیصلہ ہو جائے گا کہ…حقیقی مسلمان کون تھا……؟