ملک فضل الہی فضل ،عصر حاضر کا عظیم شاعر
تحریر: راجہ نورالہی عاطف
ضلع خوشاب کی نامور علمی و ادبی شخصیت ملک فضل الہی فضل ہرگز کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی ا کی ذات والا صفات نے آپ کو اعلی ا صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آپ 2 اپریل 1966ء میں مٹھہ ٹوانہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا اسم گرامی علی احمد ہے ۔ آپ نے 1981ء میں میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول مٹھہ ٹوانہ سے پاس کیا۔1985ء میں گورنمنٹ کالج جوہرآبادسے گریجوایشن کی جبکہ 1988ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم ایس سی جیوگرافی کی ڈگری حاصل کی ۔ اگر جناب ملک فضل الہی فضل کی پیشہ وارانہ/ انتظامی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔ آپ نے بطور پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول بجار، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول مٹھہ ٹوانہ، گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 47 ایم بی، گورنمنٹ ہائی سکول نورپور تھل جبکہ بطور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تحصیل نورپور تھل ،بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشنآفیسر سکول میانوالی، خوشاب ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری سکولز خوشاب اور بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن ڈسٹرکٹ خوشاب گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں ۔ موصوف تا دم تحریر بطور ڈی ای او سیکنڈری سکولز خوشاب فرائض منصبی بطریق احسن سر انجام دے رہے ہیں ۔
ادبی حوالوں سے بھی جناب ملک فضل الہی فضل کو ادبی حلقوں میں ممتاز مقام حاصل ہے ۔آپ نے 1976 ء یعنی زمانہ طالب علمی ہی سے پنجابی شاعری کا آغاز کیا جبکہ 1990ء میں اردو شاعری کے حوالے سے بھی طبع آزمائی کا آغاز کیا ۔ آپ کی پسندیدہ صنف غزل اردو /پنجابی ہے ۔جناب ملک فضل الہی فضل نے درج زیل اصناف میں طبع آزمائ کی ہے۔ ان میں پنجابی/ سرائیکی شاعری ،دوہا، غزل، نظم ،گیت ، قطعات، رباعی، اردو شاعری میں غزل، نظم ،رباعی ، قطعات جبکہ ادبی مجلہ “لہریں” ہفت روزہ نواءےجوہر، قومی اخبارات و رسائل اور ادبی جرائد میں مختلف موضوعات پر کالم/ مضامین بھی شائع ہوتے رہے ہیں ۔ حال ہی میں جناب ملک فضل الہی فضل کی کتاب ” متاع عشق “منظر عام پر آئی ہے۔ جسے علمی و ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی مل رہی ہے ۔اس حوالے سے صدر شعبہ ءاردو منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر فضیلت بانو کا کہنا ہے کہ” فضل الہی فضل لائق تعظیم شعراء میں سے ہیں کہ جو عصری حسیت کے ساتھ کلاسیکی اسالیب سخن پر بھی کامل دسترس رکھتے ہیں اور اس معتبر روایت کو ثروت مند بنا کر اپنے تخلیقی جوہر کا ثبوت فراہم کرتے ہیں “۔ کتاب متاع عشق کے حوالے سے سرگودھا کی نامور علمی اور ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم رقم طراز ہیں کہ “متائے عشق سرشاری، وجدان اور فن کا اظہار فضل الہی فضل کے بغیر ممکن نہیں۔ محترم فضل الہی فضل پر قدرت کا خاص فضل ہے کہ جن کے لفظ حمد و ثناء کرنے کے علاوہ وطن کی مٹی سے اٹھتے ہیں اور مشت خاک کی تعریف و توصیف کرتے ہیں “۔ معروف مصنفہ، شاعرہ، ادیبہ اور کالم نگار نجمہ منصور نے کتاب” متاع عشق” کے بارے اپنے تصورات قلم بند کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضل الہی فضل اردو شاعری میں ایک پختہ کار شاعر ہیں جنہوں نے حمد، نعت ،غزل،گیت اور قطعات میں اپنا اظہار نہایت عمدگی سے کیا ہے۔ انہیں اپنے وطن سے بے پناہ محبت ہے۔ وہ اپنے اشعار میں جذبہ ءحب الوطنی کا اظہار کمال خوبصورتی سے کرتے ہیں” ۔ اسی طرح دیگر علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں سمیت ممتاز علمی شخصیت ایم اللہ دتہ جاوید نے جناب ملک فضل الہی فضل کو کتاب” متاع عشق “کی اشاعت پر دلی مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالی ا ان کا زور قلم اور زیادہ کریں اور وہ دائم شاد و آباد رہیں ۔ آمین
نمونہء کلام جناب ملک فضل الہی فضل
پوچھنا خنک ہواؤں سے نظاروں کا چلن
کبھی چندا کبھی دمدار سے باتیں کرنا
کہاں نصیب بہاروں میں جہاں گزیں ہو کر
وہ اب کے باربیاباں سے کھیلنے آئے
جیتا جس نے دل کو جیت لیا
یہ لمحہ بھی سر کر لیتا اچھا تھا
زندگی تب ہے کہ تکرار جاری رہے
دل کے کہنے پہ بھی سوچوں کا سفر جاری رہے
جب بھی اپنی راہ میں تیرے نشاں پاتا ہوں
غم کے بحر بے کراں میں ڈوبتا جاتا ہوں