مریم نواز جب جیل میں تھی تو ایک دن اچانک اس کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کسی ٹویٹ کو لائک کیا گیا۔ تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ مریم نواز کو جیل میں اینڈرائیڈ فون بمعہ فور جی ڈیٹا سروس فراہم کی گئی تھی۔ مزید تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ یہ سہولت جنرل باجوہ کے حکم پر دی گئی۔
وزارت داخلہ نے وہ فون ضبط کرکے جب کال ہسٹری چیک کی تو پتہ چلا کہ مریم بی بی ساری ساری رات اپنے ایک سٹاف افسر کے ساتھ رازونیاز میں مصروف رہتی تھی۔
عمران خان کے علم میں جب یہ بات آئی تو اس نے تشہیر سے منع کرتے ہوئے کہا کہ اس لیول تک نہیں جاسکتا۔
اس کے علاوہ بھی بہت کچھ عمران خان کو دکھایا گیا لیکن اس نے ان تمام باتوں کا ذاتی زندگیوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے ان کی پبلسٹی سے منع کردیا۔
عمران خان کو دشمن کم از کم اس کے ہم ظرف ہی مل جاتے۔۔۔