پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کی شق 55 میں ایک نئی ترمیم کے تحت دو نئی شقیں، 55 بی اور 55 سی شامل کی گئی ہیں۔
پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم
پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کی شق 55 میں ایک نئی ترمیم کے تحت دو نئی شقیں، 55 بی اور 55 سی شامل کی گئی ہیں۔
تمام ریٹائرڈ فوجی اب مستقل طور پر آرمی ایکٹ کے تابع ہوں گے۔ یہاں تک کہ ریٹائرمنٹ کے 20 سال بعد یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے پر کسی ریٹائرڈ فوجی کے خلاف سمری ڈسپوزل یا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے، چاہے اس کی ریٹائرمنٹ کو دہائیاں کیوں نہ گزر چکی ہوں۔
دو شقیں خاص توجہ کی متقاضی ہیں: چوتھی اور پانچویں۔
چوتھی شق الیکٹرانک جرائم سے متعلق ہے۔ اگر کوئی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی جان بوجھ کر فوج کی بدنامی، تضحیک یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا مرتکب پایا گیا تو اسے پاکستان کے الیکٹرانک جرائم کے قوانین، بشمول پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، کے تحت سزا دی جائے گی۔
پانچویں شق کے مطابق، کوئی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی جو جان بوجھ کر فوج یا متعلقہ اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا قصور وار پایا گیا، اسے آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جائے گی جس میں جرمانے اور دو سال تک قید کی سزا شامل ہو سکتی ہے۔