October 28, 2026

دو قومی نظریہ زندہ کیا جائے ازقلم غنی محمود قصوری

IMG-20240924-WA0436(2)

دو قومی نظریہ زندہ کیا جائے

ازقلم غنی محمود قصوری

دو قومی نظریہ سے مراد ہے دو قوموں کے نظریات
یعنی کہ ان کے رہنے سہنے،کھانے پینے اور عبادات و جذبات کا عکس

ویسے تو دو قومی نظریہ 23 مارچ 1940 کو پیش کیا گیا تھا تاہم اگر دیکھا جائے تو اس کی بنیاد بہت پرانی ہے
ہر نبی نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی اپنی امتوں کو دعوت دی تھی
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی تھی
ایک طرف نبی ذیشان اور ان کے جانثار صحابہ کرام تھے تو دوسری طرف اس وقت کے غیر مسلم تھے جو مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے تھے
مسلمانوں کی بنیاد لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ پر تھی جبکہ دوسری قوم کی بنیاد بت پرستی،تہم پرستی و شرک و بدعات پر مبنی تھی جس کی بابت کائنات کے سب سے اعلی نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کے غیر مسلموں کے سامنے دو قومی نظرئیے کی بنیاد دعوت توحید دے کر رکھی تھی
برصغیر پاک و ہند میں بھی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ تھا کھانا پینا،عبادت و ریاضت و سانس لینا محال تھا سو حصرت علامہ محمد اقبال کے مشن پر قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی ٹیم نے دو قومی نظریہ دنیا کے سامنے پیش کیا
سعودی عربیہ کے بعد پاکستان واحد ملک و ریاست ہے جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا
پاکستان 1947 کو معرض وجود میں دو قوموں کے درمیان نظریات کی جنگ کے باعث معرض وجود میں آیا تھا
ہندوستان میں چونکہ ہمارے مدمقابل کائنات کا سب سے پلید ہندو مشرک تھا جو کہ اپنے اندر کئی اقوام لئے بیٹھا ہے اور اس کے اندر بھی ذات و صفات و مالیات کے لحاظ سے درجہ بندی ہے جبکہ مسلمان اپنے پیارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایک ہیں
نبی ذیشان نے فرمایا مومنوں کی مثال تو ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر ایک عضو (حصہ) کوتکلیف پہنچے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے یعنی کہ ہم مسلمانوں میں ذاتیات و مالیات و حسب نسب سے مقام و مرتبہ بلند نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک ہونے سے ہے

14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آ گیا جو کہ تاریخ میں ایک بہت الگ مقام رکھتا ہے
اللہ نے اس مملکت خدادا کو بے شمار نعمتوں سے نوازا تاہم افسوس کہ ہمارے اشرافیہ نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے اس ملک کو پھر سے دو قومی نظریہ کا محتاج بنا دیا فرق اتنا ہے کہ اس وقت حقوق کی جنگ مسلم اور غیر مسلم کے مابین تھی اور آج غریب و امیر کے درمیان ہے
ایک طرف وزارت و صدارت پر بیٹھا اعلی عہدیدار ہے تو دوسری طرف مفلوک الحال عام پاکستانی اپنے ریاستی جائز حقوق ملنے کا منتظر ہے
ایک طرف ٹیکس چوری کرکے بھی فائلر بننے والا بااثر شہر معزز ترین شہریوں میں شمار ہے اور گورنمنٹ سے اس معمولی ٹیکس کی مد میں انعامات پاتا ہے جبکہ دوسری طرف پیٹرول،بجلی جیسی عام چیزوں پر بھی ہزاروں روپیہ ماہانہ ٹیکس دینے والا نان فائلر سرکاری ہسپتال سے اپنے ہی ٹیکس کی دوائی ملنے سے بھی محروم ہے
ایک طرف ساری زندگی محکمے سے اچھی تگڑی تنخواہ لینے والا بیورو کریٹ ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تگڑی پینشن لیتا ہے تو دوسری طرف وہ عام چپڑاسی جو ساری زندگی صبح سے شام تک صاحبان کے سرکاری و نجی کام معمولی تنخواہ پر کرتا رہا اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی معمولی سی پینشن لینے کے لئے بینک میں گھنٹوں لائن میں لگا رہتا ہے اور اس کا بڑھاپا پنشن حاصل کرنے کے انتظار میں ہی گزر جاتا ہے
ایک طرف ہمارا وہ طبقہ ہے جو اعلی عہدوں سے 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتا ہے اور پھر ریٹائرمنٹ سے اگلے دن ہی کسی اور ادارے کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے
جی بلکل میری مرد جرنیل،آئی جی صاحبان و دیگر اداروں کے اعلی افسران ہیں کہ جن کی 60 سال کی عمر میں 30 سال کی ایک اور بیوی زوجہ دوئم کی صورت میں بسا اوقات ہوتی ہے اور ایسے لوگ اچھی خوراک اور کم پریشانیوں کے باعث 90 سال کی عمر تک میں بھی جی لیتے ہیں اور ان کے مرنے کے بعد ان کی پہلی و دوسری بیویاں پینشن لیتی ہیں اور نابالغ بچے وظیفہ بھی لیتے ہیں
اور پھر ستم ظریفی یہ کہ انہی کی اولادیں پھر سے صاحب اقتدار بن کر اعلی عہدوں پر براجمان ہوتی ہیں جبکہ ایک عام سرکاری ملازم ساری عمر کی پریشانیوں کے باعث اپنی صحت گنوا کر ریٹائرمنٹ کے چند سال بعد ہی دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے اور بسا اوقات اسی کی زوجہ اس سے پہلے ہی دار فانی سے جا چکی ہوتی ہے یوں اس غریب کا بوجھ جلد ہی گورنمنٹ سے ختم ہو جاتا ہے
یہاں یہ بات واضح کر دوں کہ میں نا تو پاک وطن کے اور اس کی ترقی و معیشت کے خلاف مایوس ہوں نا ہی پاک فوج کے خلاف ہوں بلکہ میں الحمدللہ ایک ریٹائرڈ صوبیدار کا فرزند ہوں مگر ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ اعلی فوجی جرنیلوں کو قریب المرگ ہوتے ہوئے بھی نئے سرے سے دوسرے محکمے دوبارہ سے سونپ دیئے جاتے ہیں جبکہ پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاری کے باعث پھلوں کی ریڑھیاں لگائے پھرتے ہیں یہ بہت بڑی زیادتی اور ناانصافی ہے
ایک اہم بات نوٹ کر لیں کہ جرنیل صاحبان کیساتھ ہمارے ریٹائر ہونے والے دیگر اداروں کے اعلی افسران بھی اسی طرح اس کام سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اس لئے اکیلے جرنیلوں کے نام یہ بات منسوب کرنا انتہاء کی منافقت اور بغض ہوگا
لہذہ جہاں جرنیلوں و اعلی فوجی افسران کو دوبارہ محکمے نا دینے کی ضرورت ہے وہاں سول اداروں کے ریٹائرڈ ہونے والے اعلی افسران کیلئے بھی یہی بات ضروری ہے

نیز وقت کا تقاضا ہے کہ جو بھی فرد جس بھی ادارے میں بھرتی ہو جائے اسے 60 سال کی عمر تک سروس کرنے دی جائے اگر وہ اس سے قبل ریٹائرمنٹ لیتا ہے تو اسے پابند کیا جائے کہ وہ نا تو کسی دوسری سرکاری نوکری کا اہل ہو گا اور نا ہی اپنی جگہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اپنی چھوڑی گئی سیٹ پر بھرتی کروا سکے گا
ہمارے ہاں تقسیم کی اتنی غلط روایت ہے کہ ڈپٹی کمشنر صاحبان کھربوں روپیہ مالیت کے بنگلوں میں رہتے ہیں اور لاکھوں تنخواہ لیتے اور کروڑوں روپیہ کے سرکاری ٹھیکے اپنے رشتہ داروں کو دلواتے ہیں جس کے باعث بات وہی پڑھے لکھے بیروز گار سڑکوں کی ہی زینت بنتے ہیں
ہمارا ایک سب سے بڑا المیہ ناانصافی ہے جس کی شروعات ہمارے گلی محلوں سے شروع ہوتی ہے اور پھر تھانوں سے عدالتوں تک چلتی ہے بلکہ ہمارے سربراہان مملکت بھی رہی کردار ادا کرتے ہیں جسے منافقت کہا جاتا ہے یعنی کہ امیر کیلئے فوری انصاف اور غریب کو وہ انصاف سالوں نہیں بلکہ دہائیوں تک نہیں ملتا
اس بات کا اندازہ آپ یہاں سے لگا لیں کہ گورنمنٹ نے کم از کم اجرت 38000 روپیہ مقرر کی ہے جبکہ آج بھی ہماری پرایوئٹ ذیادہ تر فیکٹریوں میں 29000 سے 34000 روپیہ ماہوار دیا جاتا ہے وہ بھی بہت کم میں
آپ گورنمنٹ کی ناانصافی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ لاہور و بڑے شہروں میں مزدور کی مزدوری 1200 یومیہ مقرر ہے جبکہ بہاولپور،بہاولنگر و رحیم یار خان جیسے علاقوں میں اسی کی طرح کے مزدور کی مزدوری 700 روپیہ یومیہ ہے
میں یہ بات محض لکھ نہیں رہا بلکہ ان علاقوں سے آئے سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں سے ثابت کروا سکتا ہوں جو ہمارے لاہور،قصور،گجرانوالہ و دیگر علاقوں میں سالوں سے بسلسلہ روزگار مقیم ہیں
جبکہ ہماری گورنمنٹ کی شاہ خرچیاں اتنی ہیں کہ جب جی چاہے اپنی فیملی اور دوستوں،وزیروں مشیروں کے لاؤ لشکر کیساتھ سرکاری عمرے پر روانگی کر لی جاتی ہے
خدارہ اس دو قومی نظرئیے کو ختم کرکے مزدور کی پنشن مقرر کیجئے اس ملک کو کھانے والی اشرافیہ کی مراعات کم کیجئے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیے اور پڑھے لکھے بیروزگارووں کا ہاتھ تھام لیجئے تاکہ رب کی رحمت کا نزول ہم پر ہو وگرنہ یاد رکھئے ناانصافی اگر ماں باپ اپنی اولاد ساتھ کرے تو وہاں سے برکت رب کی طرف سے اٹھا لی جاتی ہے یہاں تو پھر ناانصافی پوری سلطنت میں ہو رہی ہے
میں مایوس ہرگز نہیں اور اچھے کی امید دیکھ رہا ہوں اللہ تعالی ہم سب کو اس مملکت کو اعلی ترین ترقی دیکھتے رہنا نصیب فرمائے آمین