*نئے ایس ایچ او کا چارج لیتے ہی ڈاکوؤں کی سلامی، سٹی تھانہ حدود میں *میڈیکل اسٹور پر ڈکیتی*
*نئے ایس ایچ او کا چارج لیتے ہی ڈاکوؤں کی سلامی، سٹی تھانہ حدود میں *میڈیکل اسٹور پر ڈکیتی*
حب // حب سٹی تھانے کے نئے ایس ایچ او کے چارج سنبھالتے ہی، ڈاکوؤں کی سلامی تفصیلات کے مطابق الہ آباد کے علاقے میں تین موٹر سائیکلوں پر سوار چھ مسلح ڈاکو ایک میڈیکل اسٹور میں گھسے، گاہکوں اور عملے کو یرغمال بنایا اور 70 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون لوٹ کر با آسانی فرار ہو گئے،واردات کے بعد حب شہر کے شہری خوف اور عدم تحفظ کی کیفیت میں مبتلا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی ناکافی کارکردگی اور جرائم پیشہ عناصر کے بڑھتے ہوئے حوصلے نے شہر کو ایک خطرناک صورتحال میں ڈال دیا ہے حب میں اب نہ دن کو چین ہے اور نہ رات کو سکون۔ ہم اپنے کاروبار اور جان و مال کی حفاظت کے حوالے سے بے حد پریشان ہیں،واضح رہے کہ حب سرکل پولیس مکمل طور پر جرائم کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ حالیہ واردات سے قبل بھی حب میں جرائم کی کئی سنگین وارداتیں ہو چکی ہیں جن میں پولیس کی ناکامی کھل کر سامنے آئی ہے۔ کچھ دن پہلے اسی علاقے ڈاکخانہ روڈ پر واقعہ جنرل اسٹور میں ڈکیتی کی واردات پیش آئی تھی جس میں ڈاکوؤں نے 8 لاکھ روپے کی نقدی لوٹی تھی۔ اس واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی، جس سے پولیس کی کارکردگی اور مؤثر حکمت عملی پر سوالات پیدا ہوتے ہیں،شہر کے مشہور ہوٹل جمعہ خان ہوٹل کے قریب، جھڑپ مار گروپ روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کو ان کے موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم کر رہے ہیں۔ یہ جھڑپ مار گروپ کھلے عام سرگرم ہیں اور شہریوں کو لوٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ایس ایس پی حب کو شہر کی بگڑتی صورتحال سے کوئی سروکار نہیں ہے اور پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
حب کے شہریوں میں پولیس کی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “حب میں پولیس نے ہمیں جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ہر دوسرے دن شہر میں ڈکیتی، جھڑپ مار گروپ کی کارروائیاں اور موبائل چھیننے کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ پولیس محض بیان بازی کر رہی ہے جبکہ عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جا رہا،شہر کے مختلف حلقوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حب میں بڑھتے ہوئے جرائم کو قابو میں لانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں