October 28, 2026

خیرپور (ڈسٹرکٹ بیورو چیف ۔ سید نصیر حسین زیدی دعا آن لاین ۔ینوز سندھ اولمپک ایسوسی ایشن نے محمد رمضان جمالی جن تعلق لاڑکانہ تعلیمی بورڈ سے ہے اور ان کے دیگر ساتھیوں پر صوبہ سندھ میں متوازی ہاکی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر 10 سال کی پابندی لگا دی۔

IMG-20241025-WA0192

خیرپور (ڈسٹرکٹ
بیورو چیف ۔
سید نصیر حسین زیدی
دعا آن لاین ۔ینوز
سندھ اولمپک ایسوسی ایشن نے محمد رمضان جمالی جن تعلق لاڑکانہ تعلیمی بورڈ سے ہے اور ان کے دیگر ساتھیوں پر صوبہ سندھ میں متوازی ہاکی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر 10 سال کی پابندی لگا دی۔
تفصیلات کے مطابق مورخہ نو اکتوبر کو کے ایچ اے اسپورٹس کمپلیکس میں سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ؤ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کی سربراہی میں ہونے والے سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کانسٹیٹیوشن(آئین)کے مطابق ارٹیکل 25 ایک اور 25 دو جبکہ سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے کانسٹیٹیوشن(آئین) کے آرٹیکل 22 کے مطابق کوئی بھی شخص متوازی ہاکی سرگرمیوں میں پایا جائے گا تو ان پر تاحیات پابندی لگائی جائے گی۔ سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا تھا محمد رمضان جمالی ۔اعجاز احمد کھوکھر ۔اسلم خان نیازی ۔وکیل الدین اور عبدالرسول جانوری پر صوبہ سندھ میں متوازی ہاکی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور اس میں حصہ لینے پر 10 سال کی پابندی لگا دی گئی۔ اس سلسلے میں سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اکبر علی قائم خانی نے سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کو بذریعہ خط تمام تفصیلات سے آگاہ کیا تھا جس کی روشنی میں سندھ اولمپک ایسو سی ایشن نے صوبہ سندھ کی شہرت کو نقصان پہنچانے پر مندرجہ بالا تمام لوگوں پر 10 سال کی پابندی عائد کر دی ہے یہ لوگ ہاکی کی کسی بھی قسم کی سرگرمیوں میں آئندہ دس سال تک حصہ نہ لینے کے پابند ہوں گے۔جبکہ سندھ میں کوئی بھی ایسوسی ایشن ان لوگوں کو اپنے پروگراموں میں نہ بلانے کی پابند ہوگی اور خود بھی سرگرمیوں میں شامل نہیں کرے گی ورنہ اس ایسوسی ایشن ۔ڈسٹرکٹ یا کلب کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سلسلے میں سندھ اولمپک ایسوسی ایشن نے محکمہ کھیل سندھ اور ان تمام ملوث لوگوں کے متعلقہ محکموں صوبائی وزیر یونیورسٹی اور بودڈ حکومت سندھ محمد علی ملکانی اور صوبائی سیکرٹری محمد عباس بلوچ جبکہ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ اور سیکٹریری آصف اکرام کو بھی ذریعہ خط آگاہ کیا جا چکا ہے اور درخواست کی گئی ہے کہ ان لوگوں کو کسی بھی قسم کی ہاکی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے جو کہ صوبہ سندھ اور سندھ کی ہاکی اور سندھ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ حال ہی میں قومی جونیئر ہاکی چیمپین شپ جو کہ راولپنڈی میں منعقد ہوئی اس میں ان لوگوں نے صوبہ سندھ کی ہاکی میں شہرت کو بد نام کیا ہےان لوگوں کی وجہ سے پاکستان بھر میں صوبہ سندھ کی بد نام گی ہوئی ہے ان لوگوں نے سندھ ہاکی ایسوسی ایشن ۔سندھ اولمپکس ایسوسی ایشن ۔اور حکومت سندھ سے وابستہ محمکہ کھیل سے تحریری اجازت لیے بغیر اپنے من پسند لوگوں کی ٹیمیں بنا کر وہاں جاکر چیمپین شپ میں شرکت کی اور سندھ ہاکی کی تاریخ میں تقریباً55گول کھا کر نہ صرف صوبہ سندھ کو بدنام کیا بلکہ صوبہ سندھ کی شہرت اور سندھ کی ہاکی کو بھی بہت بڑا نقصان پہنچایا۔ سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے اس موقع پر کہا کہ متوازی ایسوسی ایشن اور متوازی ہاکی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کے بارے میں اطلاع ہے کہ ان میں سے تین چار لوگ محکمہ تعلیم سندھ کے ملازم ہیں اور یہ لوگ صوبہ سندھ کی ساکھ کو نقصان اور بدنام کرنے میں شامل ہے ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور ان کے خلاف مناسب کاروائی کی جائے گی