October 28, 2026

*انتخاب ،،، نجیب عاطف* ہر ریڈیو اسٹیشن پر پیش کیے جانے والے پروگراموں کے اور شخصیات کے علاوہ کچھ مقامات بھی قابل ذکر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر لاہور ریڈیو اسٹیشن پر موجود کینٹین خاصی اہم جگہ تھی۔ یہاں شاعر، ادیب ، فن کار، صدا کار، ڈراما نگار، موسیقار، گلوکار اور سازندے ریڈیو کی

IMG-20240829-WA0139(25)

*انتخاب ،،، نجیب عاطف*

ہر ریڈیو اسٹیشن پر پیش کیے جانے والے پروگراموں کے اور شخصیات کے علاوہ کچھ مقامات بھی قابل ذکر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر لاہور ریڈیو اسٹیشن پر موجود کینٹین خاصی اہم جگہ تھی۔ یہاں شاعر، ادیب ، فن کار، صدا کار، ڈراما نگار، موسیقار، گلوکار اور سازندے ریڈیو کی عمارت میں داخل ہو کر پہلا پڑاؤ کرتے ۔ دوستوں سے ملتے ، ادبی گفتگو ہوتی ، چائے چلتی، سگریٹ نوشی ہوتی اور اُس دن ہونے والے پروگراموں پر بات چیت ہوتی ۔ حاضرین کے قہقہوں اور گیتوں کی آوازیں کینٹین کےدروازوں اور کھڑکیوں سے نکل کر اردگرد کے کمروں،برآمدوں اور باغ باغیچے تک پھیل جاتیں۔ جس کسی کو بھی تلاش کرنا مقصود ہوتا ، اُس کا اتا پتا یہیں سے دستیاب ہوتا ۔ یہ ہم ریڈیو اسٹیشن کی موجودہ عمارت کی کینٹین کی بات کر رہے ہیں جو باقاعدہ ایک ادبی مقام تھا اور جہاں فنکاروں اور لکھاریوں
کی محفلیں جمتیں ۔
لاہور میں ایسے تین بڑے مراکز تھے: ایک پاک ٹی ہاؤس، دوسرا چائنیز پنچ ہوم اور تیسرے ریڈیو کی کینٹین ۔ اس کے علاوہ بھی ادیبوں کے ٹھکانے تھے، جنہیں اے حمید نے ۔ اپنی تصانیف اور مضامین میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ لاہور ریڈیو پر اپنے دور کے ہر ادیب، شاعر، فن کار، صدا کار ،موسیقار، گائیک اور سازندوں نے رونق بخشی ہے۔ یہاں کی باتیں، قصے ، واقعات بیان کرنے کے لیے الگ سے کتابیں تحریر کرنی پڑیں گی۔
یہاں گلوکار گانوں کی ریہرسل کرتے سازندے اپنے سازوں کو شہر کرتے اور چائے سگریٹ اور قہقہوں کے دور چلتے۔ یہاں ایک ایسی خوشگوار، خوش گن ، ادبی ثقافتی اور رنگارنگ محفل جمتی تھی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں محبت ، دوستی اور بھائی چارے کی ایسی فضا تھی کہ موجود لوگ ایک ہی خاندان کے افراد محسوس ہوتے۔ کھانا پینا نقد چلتا ، ادھار بھی اور پرچی سسٹم کے تحت بھی۔ اس مرکز سے علم وادب، فن اور فن کاری کے شگوفے پھوٹتے تھے۔ جس طرح ریڈیو کی عمارت، اسٹوڈیو ، باغ ، راہ داریوں اور در و دیوار سے ادب، ثقافت، فن اور تخلیقی کام جھلکتا نظر آتا تھا، اُسی طرح کینٹین بھی اچھی خاصی درس گاہ اور آرٹ سنٹر کا منظر پیش کرتی ۔ حتی کہ کینٹین کے انچارج اور نگران اصغر زیدی مرحوم ایک بہت بڑے فن کار، صدا کار، اناؤنسر، لکھاری اور ادیب تھے۔ وہ اُردو ادب اور اردو زبان کی لغت تھے۔ اشعار کا ایک ضخیم ذخیرہ ان کے ساتھ ہم رکاب رہتا۔ ایک براڈ کاسٹر کی حیثیت سے برسوں خدمات بجالاتے رہے۔ اُنھیں آؤٹ سٹینڈنگ کے درجے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ وہ الفاظ کی درستی،معنی اور ادائی میں مصنفین اور صدا کاروں کی رہنمائی کرتے جن میں یہ خاکسار بھی شامل تھا۔
کینٹین کی ایک بن بلائی مہمان بلی بھی سب کی لاڈلی تھی۔ یہ بہت نک چڑی اور خود پسند تھی۔ ساری کینٹین میں
بے نیازی اور بے فکری سے دندناتی اور اٹھکیلیاں کرتی
پھرتی ۔ اُس کا رزق انہی فن کاروں کے ذمے تھا۔ یہ سب اسے اس قدر مانوس تھی کہ اُن کی گفتگو ، گائیکی اور سازوں کی قدران اورسرگم سے گویا لطف اندوز ہوتی ۔
قارئین ! دو واقعات قابل ذکر ہیں۔
ایک مرتبہ ہم منشی پریم چند کے افسانے ”حج اکبر” کی ڈرامائی تشکیل کا سکرپٹ تحریر کر رہے تھے۔ یہاں ہمیں ایک نہ لفظ کنجر ا استعمال کرنا مقصود تھا۔ ہمیں اُس کے درست تلفظ –
اور معنی کے بارے میں شک گزر رہا تھا ۔ لہذا ہمارا معتبر ذریعہ اصغر زیدی ہی تھے جنہوں نے ہماری یہ الجھن دور کر دی۔ – کنجرا، سبزی فروش کو کہتے ہیں۔ اس کا استعمال صوفی غلام مصطفی تبسم نے اپنی مشہور نظم ٹوٹ بٹوٹ میں بھی کیا ہے۔

ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی، خالہ اُس کی لکڑی لائی پھپھی لائی دیا سلائی ، امی جان نے آگ جلائی
ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی دھوبی ،کُنجڑا، نائی آیا، پنساری، حلوائی آیا
سب نے آکر دھوم مچائی ، ٹوٹ بٹوٹ نے کھیر پکائی
اسی طرح ایک دوسرے موقع پر اقبال بانو پر ایک فیچر پروگرام تحریر کر رہے تھے۔ یہاں ہمیں بتانا تھا کہ اقبال بانو وہ واحد گلوکارہ ہیں جو غزل گاتے ہوئے چھوٹے ‘ک’ اور بڑے ق کی ادائیگی اُس کے فرق سے اس طرح ادا کرتیں کہ دونوں کی شناخت ہو جاتی ۔
یہ حیرت کی بات ہے کہ ہمیں کسی لغت سے یہ بات معلوم نہ ہو سکی کہ چھوٹا ک کسے کہتے ہیں اور بڑاق، کون سا ہوتا ہے۔ یہ فرق بھی اصغر زیدی نے واضح کیا۔ یادر ہے کہ بڑے ق کی آواز حلق سے نکالی جاتی ہے۔ اقبال بانو کی یہ غزل کبھی سماعت کریں جو ناصر کاظمی کی لکھی ہے، تو آپ کو اس کا ادراک ہوگا۔

وہ اس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے
ہزار بار ملو پھر بھی آشنا نہ لگے
دکھاؤں داغ محبت جو نا گوار نہ ہو
سناؤں قصہ فرقت اگر برا نہ لگے