بجلی کے بلوں نے شہریوں کی چیخیں نکال دیں، زندگی کے تمام امور درہم برہم ہو گئے. بھاری بھر کم بلوں نے شہریوں کو مریض بنا دیا۔ بلوں کی ادائیگی کے لئے شہریوں نے گھروں کی چیزیں فروخت کرنا شروع کر دیں.
بجلی کے بلوں نے شہریوں کی چیخیں نکال دیں، زندگی کے تمام امور درہم برہم ہو گئے.
بھاری بھر کم بلوں نے شہریوں کو مریض بنا دیا۔ بلوں کی ادائیگی کے لئے شہریوں نے گھروں کی چیزیں فروخت کرنا شروع کر دیں.
میلسی (محمدمختارسولگی) تفصیلات کے مطابق پچھلے کچھ عرصہب سے بجلی کے بلوں میں تیزی سے ہونیوالے اضافے نے شہریوں کی زندگی کے تمام امور درہم برہم کر کے رکھ دیئے ہیں۔ ہروقت لوڈ شیڈنگ اور بہت کم بجلی استعمال کرنیکے باوجود ہزاروں روپے کے بلوں نے شہریوں کی چیخیں نکال دی ہیں۔ حکمرانوں کی نااہلی اور خود غرضانہ پالیسیوں کی وجہ سے خصوصاّ پچھلے 5 سال سے ذریعہ آمدنی میں تو کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ،لیکن بجلی کے بلوں میں جس تیزی کے ساتھ اضافہ کیا جا رہا ہے ، اس سے شہریوں کی بجلی کے بل ادا کرنے کی سکت ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے ،جسکی وجہ سے شہریوں نے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لئے گھروں کی اشیاء،
بچوں کے مستقبل کیلئے بنائے جانیوالے سونا چاندی کے زیور، پیٹ کاٹ کر خریدے گئے بھیڑ بکریا اور دیگر جانور تک فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔کیونکہ حکومتی اقدامات کے بعد بجلی کے بل ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہر ماہ، ہزاروں کی تعداد میں شہری واپڈا دفاتر میں بجلی کے بلوں کی قسطیں کرانے پہنچ جاتے ہیں۔ ایس ڈی او واپڈا کے دفتر میں بلوں کی قسطیں کرانے اور بجلی بلوں کی تصیح کرانے کیلئے آئے شہریوں نے اشکبار آنکھوں سے آہ و بکا کر تے ہوئے کہا کہ گھر میں کمانے والا ایک فرد ہو اور اسکی 30000 ہزار روپے تنخواہ ہو ،کھانے پینے والے 5 ہوں ۔ بجلی کا بل اٹھارہ ہزار روپے آیا ہو تو کس طرح ادائیگی کریں ؟ ۔ کمر توز مہنگائی کے سبب ویسے ہی راشن گھروں میں موجود نہیں ہوتا۔ اتنا زیادہ بل آجائے تو ہم کہاں جائیں ؟ اسئے بجلی کے بل کی قسط کرانے آئے ہیں، جو نئی پالیسی کے تحت اب سال میں صرف ایک مرتبہ ہونگے۔ اسکے بعد صورتِ حال مزید ابتر ہوجائے گی۔اسی طرح کے دل ہلا دینے والی کہانیاں واپڈا کے دفاتر کے باہر شہریوں نے سنائی ۔ کئی بزرگ لائنوں میں لگے تھے۔ کئی خواتین بجلی کے بلون کی قسطیں کرانے آئی تھیں۔ بجلی کے بلوں میں مزید اضافے نے بجلی کم استعمال کرنے والوں کا پورا نظام درہم برہم کر کے رکھ دیاہے۔ دو سو یونٹ سے کم استعمال کرنے والے کئی گنا زائد فی یونٹ چارج کئے جارہے ہیں اس کے ساتھ فیول ایڈجسمنٹ ، جنرل سیلز ٹیکس ، گھر میں عرصہ ہوا کسی نے بھی ٹی وی نہیں دیکھا اور جو حالات وطنِ عزیز کے ہیں ،کسی کو ٹی وی دیکھنے کیلئے وقت ہی نہیں ملے گا۔اسکے باوجود ٹی وی فیس، الیکٹرک سٹی ڈیوٹی ، ایڈیشنل سر جارچ (ای پی ایل) یہ وہ ٹیکس ہیں جو بجلی استعمال کرنے والا ایک صارف باقائیدگی سے ہر سال نہیں بلکہ ہر ماہ ادا کر رہا ہے۔ اسکے علاوہ اب نئی پالیس کے تحت ہر صارف بجلی کے بل پر اب فکس چارجز کے نام پر 1000 روپے مزید ادا کرےگا۔