رپوٹ عبدالعزیز شیخ چیف انجینئر ٹھٹہ کی نااہلی، کلری بگھاڑ بئراج سے نکلنے والی نہر گھار مسان سے روزانہ ہزاروں گیلن پانی ضائع ہونے لگا
رپوٹ عبدالعزیز شیخ چیف انجینئر ٹھٹہ کی نااہلی، کلری بگھاڑ بئراج سے نکلنے والی نہر گھار مسان سے روزانہ ہزاروں گیلن پانی ضائع ہونے لگا
ٹھٹہ ( ) چیف انجینئر ٹھٹہ کی نااہلی کی وجہ سے روزانہ ہزاروں گیلن پانی ضائع ہو رہا ہے، جس سے زرعی اور انسانی وسائل کو شدید نقصان کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، مکلی کی آبادی کو پانی فراہم کرنے والی اور ہزاروں ایکڑ زمین کو آباد کرنے والی گھار مسان نہر کے ٹیل والے حصے میں روزانہ بڑی مقدار میں پانی فضول میں بہہ رہا ہے۔ غیر ضروری بہتے ہوئے پانی کو روکنے کے بجائے گیج کو مکمل طور پر اوپر کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پانی کو کنٹرول کرنے میں ناکامی ہو رہی ہے۔ اس سے نہ صرف زمینوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے، بلکہ دوسری جانب پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے، جو کئی علاقوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
مقامی زمینداروں اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ چیف انجینئر اور ان کے ماتحت عملے کی غفلت کی وجہ سے پانی ضائع ہونے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ پانی بند کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے، اور چیف انجینئر خود دفتر سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لاپرواہی کی وجہ سے زراعت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں اور سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف مکلی کے رہائشیوں نے روزنامہ وفا سندھ کے نمائندے اور عوامی پریس کلب ٹھٹہ کے دیگر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیف انجینئر اور ان کے عملے کی نااہلی ہے کہ ایک طرف ہم یہاں پانی کے ایک ایک قطرے کے لیے پریشان ہیں، جبکہ دوسری طرف محکمہ آبپاشی کی نااہلی کے باعث ہزاروں گیلن پانی ضائع ہو رہا ہے۔
انہوں نے وزیر آبپاشی اور سیکریٹری آبپاشی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس نااہلی کے خلاف اقدام اٹھایا جائے، بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائے گا۔
علاقہ مکینوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پانی ضائع ہونے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور غیر ذمہ دار عملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔