October 28, 2026

پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کاؤنٹر اسٹریٹجی کیا ہے دہشت گردی کے خاتمے میں کِس نے کیا کردار ادا کرنا ہے پشاور ( سید گوہر شاہ )

20241018_191017

پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کاؤنٹر اسٹریٹجی کیا ہے دہشت گردی کے خاتمے میں کِس نے کیا کردار ادا کرنا ہے

پشاور ( سید گوہر شاہ )

کِس کی کیا ذمہ داری ہے

آئیے ڈھونڈتے ہیں اس اہم سوال کا جواب *ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے غیر رسمی بات چیت کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر* ۔ کاؤنٹر ٹیررزم پالیسی فوج نہیں بناتی، پاکستان میں نیشنل لیول پر کاؤنٹر ٹیررزم پالیسی موجود ہے جو کہ نیشنل لیول پے بنتی ہے جس میں تمام سٹیک ہولڈرز شامل ہوتے ہیں۔ فوج اور سیکورٹی اداروں کا کام ہے دہشت گردوں سے لڑنا ہے۔ پارفل جوڈیشل کریمنل سسٹم ہونا چاہیے جس کے تحت دہشتگردوں کو سزائیں دی جا سکیں۔ ٹیررزم ک اور کرائم کا اپس میں بہت بڑا نیکسس ہے اس ٹیرر نیکسس کو بریک کرنے کی ضرورت ہے جب تک اپ ان تمام پوائنٹس پہ جو مختلف سٹیک ہولڈرز ہیں وہ یکسوئی سے کام نہیں کرے گی ٹیرزم تو چلتی رہے گی۔ فوج نے کام کرنا ہے اس کی علیحدہ سٹریٹجی ہے جسے کہتے ہیں کلیئر ،ہولڈ ،بلڈ اینڈ ٹرانسفر کہ اگر کسی علاقے میں دہشت گرد آ جاتے ہیں تو وہاں فوج جائے گی اور فوج اس علاقے کو کلیئر کرے گی دہشت گردوں سے پھر اس کے بعد اس کو بلڈ کرنے کے لیے اس کو ہولڈ کرے گی کچھ عرصے کے لیے۔ پھر صوبائی اور لوکل گورنمنٹ گورنمنٹ ٹرانسفر کر کے بعد بلڈ کرے گی۔
آرمی نے تو تقریبا جب سے یہ جنگ چل رہی ہے تقریبا 46 ہزار سکور کلومیٹر کا ایریا دہشت گردوں سے صاف کرا چکے ہیں خصوصاً خیبرپختونخوا میں اور کئی علاقے کو تو ہم کلیئر کرتے ہیں دوبارہ حوالے کرتے ہیں۔ وہاں پھر دوبارہ دہشت گرد آ جاتے ہیں پھر ہم دوبارہ کلیر کرتے ہیں تو اب کیا یہ فوج کا کام تو نہیں ہے کہ وہاں پہ وہ چیک پوسٹیں لگا کے روڈوں پے بیٹھ کے پولیسنگ کریں۔ اصل مسلہ یہ ہے وہ یہ ہے کہ جو اس کا بلڈ اور ٹرانسفر کا کام ہے وہ نہیں کیا جا رہا تو جو دوسرے سٹیک ہولڈرز ہے انکو کام کرنے کی ضروت ہے۔ ۔ دہشتگردی ایک پیچیدہ مسلہ ہے ہمارا کام دہشتگردوں کے خاتمے کا ہیں۔ اگر کسی جگہ پہ جائیں گے تو ہم تو پھر اس کو صاف کر دیں گے تو وہاں کلیکٹرل ڈیمیج بھی ہوگا پھر دہشتگردوں کو پولیس، ججز، کورٹس کے حوالے کریں گے۔ محکمہ تعلیم کو کہیں گے کہ سکولوں اور مدرسوں کو قابو کریں۔ یہ سب نے ملکر اس دہشت گردی سے لڑنا ہے اس کا حال یہ نہیں جو ابھی اپ کو نظر ارہا ہے جو بلیم گیم ہے کہ اپ بھی اپنا کام کریں ہم اپنا کام کر رہے ہیں اور ہم کرتے آرہے ہیں