October 28, 2026

جھنگ فوڈ اتھارٹی ناکام مضر صحت اشیائے خورونوش کا دھندا جاری

20241018_191017

جھنگ فوڈ اتھارٹی ناکام مضر صحت اشیائے خورونوش کا دھندا جاری

جھنگ (محمد ناصر) ہوٹلوں بیکریوں کارخانوں میں صفائی وستھرائی ندارد فوڈ پوائنٹس میں مضر صحت آئل اور مصالحہ جات کا استعمال ناقص دودھ اور پانی ملے گوشت کی فروخت جاری ٹھنڈی مرغی سے سجی شوارما برگر غیرمعیاری اجزاء سے ٹافیاں نمکو اور چپس تیار کی جاتی ہے تفصیلات کے مطابق فوڈ اتھارٹی کے قیام کو 14 سال سے زائد عرصہ ہو گیا مگر ضلع جھنگ کے ایک 27 لاکھ شہریوں کو حفظان صحت کے مطابق اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی نہ بنائی جاسکی ہوٹلوں بیکریوں اور کھانے پینے کی اشیاء بنانے والے کارخانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جاسکے اور نہ ہی کچن آلات اور برتنوں وغیرہ کی صفائی وستھرائی کا کوئی انتظام کیا جاسکتا ہیر کے شہر کے بیشتر فوڈ پوائنٹس میں مضر صحت کوکنگ آئل باسی اورسب سٹینڈرڈ سبزیاں ملاوٹ شدہ مصالحہ جات کیمیکل کلرز کریم نکلا دودھ اور جعلی ایسنس والا دیسی گھی تسلسل سے استعمال کیا جارہا ہے بازاروں مارکیٹوں میں ملاوٹ مافیا کا راج ہے مرغیوں کی آنتوں اور چربی کے تیل سے چپس اور نمکو تیار کرنے کے کارخانے مضافاتی علاقہ جات میں قائم ہیں جھنگ کے مختلف علاقوں میں معروف برانڈز کی جعلی ٹکیاں ٹافیاں اور کینڈیز کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں برف خانے دن دیہاڑے آلودہ اور گندے پانی سے برف بنا کر بیچ رہے ہیں تو اس مضر صحت برف اورکیمیکل کلرز سے تیار کردہ غیر معیاری برف کے گولے املی آلو بخارے کا شربت پہلوانی سردائی قلفیاں اور سکرین سے تیار کردہ ملک شیک وغیرہ فروخت کرنے والے الگ شہریوں میں بیماریاں بانٹ رہے ہیں پھلوں کو کپڑے رنگنے والے مہلک رنگوں میں رنگ کربیچا جاتا ہے تو گرمے اور تربوز میں مٹھاس پیدا کرنے کیلئے انہیں سکرین کے انجکشنز لگائے جاتے ہیں کچے پھلوں کو قدرتی طریقے کی بجائے مہلک مصالحوں سے پکا کر انسانی صحت کو تباہ کیا جارہا ہے گٹکا سپاری چھالیہ انڈین اور سمگل شدہ مختلف اقسام کی تمباکو نوشی کی اشیاء کی فروخت بھی نہ ر ک سکی فوڈ اتھارٹی کے قیام کے بعد ضلع جھنگ کے 500 سے زائد ہوٹلوں اور ریستورانوں کے کچن ہالز اور کمروں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور بڑے سائز کی سکرینیں نصب کرنے کا منصوبہ بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا غیر معیاری مضر صحت اور گندی اشیاء خورونوش کے خلاف مہم بھی کاغذی کاروائی تک محدود ہوکر رہ گئی چربی مرغیوں جانوروں کی آلائشوں سے تیار ہونے والے مضر صحت آئل کی ہوٹلوں دکانوں پر سپلائی بھی رک نہ سکی بیمار اور لاغر مرغی اور بکرے کا گوشت ہوٹلوں ریسٹورنٹس میں فروخت ہونے لگا فوڈ اتھارٹی نے ہر اشیاء وخورونوش مشروبات کی تیاری فروخت کے حوالے سے 200 سے زائد ایس او پیز جاری کئے تھے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث فوڈ اتھارٹی کے قیام کے مقاصد کے نتائج بھی برآمد نہیں ہوسکے فوڈ اتھارٹی کی عدم توجہی کے باعث شہری بیمار اور آلودہ گوشت خریدنے پر مجبور ہیں پابندی کے باوجود کھلے عام گوشت کی فروخت کا سلسلہ جاری یے جبکہ فوڈ اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کر رہے ہیں