October 28, 2026

*‏لاہور ہائیکورٹ تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس پر سماعت*

20241018_191017

*‏لاہور ہائیکورٹ تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس پر سماعت*

آئی جی پنجاب عثمان انور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے
لا افسر صاحب آپ بتائیں اس میں کیا کیا ؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم

پوسٹ میں کہا گیا نجی کالج کی لڑکی کے ساتھ ریپ ہوا. ایڈووکیٹ جنرل پنجاب

مختلف گروپس میں یہ خبر فوری پھیلی. ایڈوکیٹ جنرل پنجاب

کیمپس 10 کی بچیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب
جب بچیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اوپر کلاسز میں روکا گیا تو پھر ایک نئی بات شروع ہو گئی ایڈوکیٹ جنرل پنجاب
یہ واقع نو اور دس اکتوبر کا ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ایک بچی گھر میں گری اور اسکو جنرل ہسپتال میں لایا گیا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب گیارہ اکتوبر کو یہ بچی ڈسچارج ہوتی ہے اور گھر آتی ہے. ایڈووکیٹ جنرل پنجاب

آئی جی پنجاب کہاں ہیں ؟ چیف جسٹس کا استفسار وہ عدالت سے باہر ہیں۔ ڈی آئی جی فیصل کامران

*وہ عدالت سے باہر کیوں ہیں ؟ چیف جسٹس*

آئی جی پنجاب عدالت میں پہنچ گئے۔

عدالت کے وقت آپ باہر کیوں تھے؟ چیف جسٹس

ویڈیوز کو روکنے کا کام آدھے گھنٹے کا تھا۔ چیف جسٹس

ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی اتھارٹی نہیں ہے۔ آئی جی پنجاب

کیا آپ کسی اتھارٹی کے پاس گئے؟ چیف جسٹس

ہم پی ٹی اے کے پاس گئے۔ آئی جی پنجاب

یہ ویڈیوز 13, 14 اکتوبر کو وائرل ہونا شروع ہوئیں۔ آئی جی پنجاب

سی ٹی ڈی نے 114 اکاؤنٹس کی شناخت کی۔ آئی جی پنجاب

آپ کو فوراً ایف آئی اے سے رابطہ کرنا تھا۔ چیف جسٹس

ہم نے فورا ایف آئی اے سے رابطہ کیا آئی جی پنجاب پولیس نے 700 سے زائد اکاؤنٹس کی شناخت کی۔ آئی جی پنجاب

انگلینڈ میں بھی اپلوڈ روکنے کی طاقت نہیں ہے۔ آئی جی پنجاب

وہاں کی بات مت کریں۔ چیف جسٹس

ہم نے وزارت داخلہ سے بات کی انہیں مراسلے لکھے۔ آئی جی پنجاب

700 سے زائد اکاؤنٹس پر یہ ویڈیوز چل رہی تھیں۔ آئی جی پنجاب

ان کو بند کرنے کا اختیار پی ٹی اے کے پاس ہے آئی جی پنجاب
ہمارے پاس جتنی اتھارٹی ہے ہم اس پر کام کرنا شروع ہو گئے تھے۔ آئی جی پنجاب

ہم نے کچھ اکاؤنٹس کی شناخت کی وہ ابھی تک ڈیلیٹ نہیں ہوئے۔ آئی جی پنجاب

اگر ارادہ ہو تو سارے کام ہوتے ہیں۔چیف جسٹس

ہمارا کیوں ارادہ نہیں تھا۔ آئی جی پنجاب

کیا مختلف گروپس میں یہ خبر فوری پھیلی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اس حوالے سے کچھ کیا ؟ عدالت کا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار

انسٹاگرام پر ایک پوسٹ اپلوڈ ہوئی کہ نجی کالج میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کا واقعہ ہوا ہےایڈووکیٹ جنرل پنجاب
علاقے کے اے ایس پی کالج پرنسپل سے ملے سی سی ٹی وی چیک کیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب

ہر بچہ کہہ رہا تھا کہ زیادتی ہوئی ہے مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل

دوسرے کیمپس کے بچے بھی اس کیمپس پہنچ گئے۔ایڈووکیٹ جنرل

ایک منظم طریقے سے یہ سب کچھ ہوا۔ ایڈووکیٹ جنرل

صرف یہ ایک بچی ہسپتال نہیں آرہی تھی تو کسی نے کہا کہ ہمیں زیادتی کا شکار بچی مل گئی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب

صرف اس بنا پر کہ بچی کالج نہیں آ رہی اسے زیادتی کی افواہ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب

اگر آپ کہیں گے تو میں آپ کی اس بچی سے ملاقات کروا سکتا ہوں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب