October 28, 2026

احوال فلسطین ازقلم غنی محمود قصوری

IMG-20240924-WA0436(1)

احوال فلسطین

ازقلم غنی محمود قصوری

7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس اور اسرائیلی ڈیفینس فورسز یعنی آئی ڈی ایف کے مابین جنگ کا آغاز ہوا
اسرائیل نے غزہ،خان یونس اور رفع پر شدید فضائی و زمینی حملہ کیا اور غزہ پٹی سے فلسطینوں کو انخلاء کا حکم دیا جس کے باعث تقریباً 90 فیصد علاقہ جنگ سے متاثر ہوا
اس جنگ آزادی میں ایک طرف اسرائیل ہے جو کہ دنیا کا 9 واں ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے جس کی فوج کی تعداد 530000 کے قریب ہے تو دوسری طرف اسلامی مزاحمتی تحریک حماس ہے جس کی اپنے اتحادیوں سمیت تعداد 40 سے 50 ہزار کے قریب ہے
اس جنگ کو شروع ہوئے آج تقریباً 1 سال 1 ہفتہ اور 3 دن ہونے کو ہیں
اسرائیل کی بدترین وحشیانہ بمباری سے ابتک 42410 فلسطینی افراد شہید ہو چکے ہیں اور 1 لاکھ سے اوپر فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں
جبکہ 20 ہزار کے قریب فلسطینی ایسے ہیں جن کا کچھ علم نہیں کہ وہ زندہ ہیں، علاقہ چھوڑ کر کہیں اور جا چکے ہیں یا کدھر ہیں یعنی 20 ہزار کے قریب فلسطینی لاپتہ ہیں
9500 فلسطینوں کو اسرائیلی فوج نے قید کیا ہوا ہے اور 2 لاکھ کے قریب فلسطینی اپنا گھر بھار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں
دوسری طرف ناجزئر ریاست اسرائیل کے ابتک اس جنگ میں 934 عام شہری اور 1000 کے قریب فوجی مارے جا چکے ہیں جبکہ 16000 سے زیادہ اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں اور 260 سے زائد کو حماس نے قید کیا ہے
ایک اٹامک کنٹری ہونے کے باوجود اسرائیل کے 5 لاکھ باشندے اپنا ملک چھوڑ کر دنیا کے دیگر ممالک میں پناہ لئے بیٹھے ہیں یعنی جتنی تعداد میں اسرائیلی فوج ہے اتنی ہی تعداد کے قریب اسرائیلی یہودی اپنا ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں اور 1800 سے زائد یہودی ایسے ہیں جن کا کچھ علم نہیں یعنی کہ نا تو حماس نے ان کو قید کرنے کا دعوی کیا ہے نا ہی دنیا کے کسی ملک میں ان کے پناہ گزین ہونے کی شہادت ملتی ہے یعنی کہ 1800 یہودیوں کا کچھ علم نہیں کہ وہ مارے جا چکے ہیں کہ زندہ ہیں اور اگر زندہ بھی ہیں تو کہاں اور کس حال میں ہیں

اسرائیل نے دنیا کے جدید ترین اسلحہ سے غزہ پر اس قدر بمباری کی ہے کہ پورا غزہ کھنڈرات بلکہ کھنڈرات سے بھی بدتر ہو چکا ہے
اسرائیل کی بدمعاشی اس قدر ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں نا تو ادویات ہیں نا ہی کھانے پینے کو کچھ ہے جنگ کے باعث باہر سے کوئی چیز آ نہیں سکتی اور اندر سے باہر جا نہیں سکتی مطلب کہ ریاست فلسطین کو جیل بنا کر رکھا ہوا ہے

جنگ سے تباہ حال فلسطینیوں کی مدد کی خاطر دنیا بھر کے امدادی قافلے سرحد پر ہفتوں کھڑے رہتے ہیں تب جا کر ایک آدھ قافلے کو اسرائیل کی طرف سے اندر داخل ہو کر امداد دینے کی اجازت ملتی ہے
اسرائیل نے غزہ پر اس قدر وحشیانہ بمباری کی ہے کہ شاید اس صدی کے آغاز میں امریکہ نے بھی افغانستان میں اتنی نا کی ہو گی

غزہ کے تازہ حالات یہ ہیں کہ آج موخہ 17 اکتوبر 2024 کو
امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انٹرنیشنل ایمرجنسی سروسز کے سربراہ فارس افانہ نے بتایا ہے کہ شمالی غزہ کے جبالیہ کیمپ میں اسرائیلی بمباری کے باعث ہر طرف لاشوں کے ڈھیر پڑے ہیں جن کو دفنانے والا کوئی نہیں کیونکہ ان کے اپنے پیارے یا تو زخمی ہو چکے ہیں یا پھر دار فوج سے کوچ کر چکے ہیں اور اسرائیل کی بمباری اس قدر ہے کہ کسی بھی امدادی ادارے کو کام نہیں کرنے دیا جاتا بہت سے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے کہ جن میں ہسپتالوں اور طبی عملے کو نشانہ بنایا جاتا ہے
اب تقزہ حالات یہ ہیں کہ جبالیہ کیمپ سے بھی 50 ہزار فلسطینی ہجرت کرکے دیگر علاقوں میں جا چکے ہیں کیونکہ کچھ پتہ نہیں کب اور کس وقت اسرائیل بمباری شروع کر دے اس لئے نہتے مظلوم فلسطینی اس قدر تیزی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے کہ اپنے شہید ہونے والے پیاروں کے جسد خاکی کو سڑکوں اور گلی بازاروں میں چھوڑ کر جانا پڑا
ایک صحافی کے کیمرے نے ایسا منظر بھی ریکارڈ کیا کہ ایک بھوکا کتا ایک شہید کی لاش کو کھا رہا ہے اور اپنی بھوک بجھا رہا ہے
جہاں انسانوں کے لئے خوراک نہیں وہاں جانوروں کو بھی خوراک کی سخت قلت ہے
اسرائیل ایسا درندہ ہے جو انسانوں کیساتھ ساتھ جانوروں پر بھی ظلم کرتا ہے
ابھی کچھ ہی دن قبل ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک مظلوم نہتا فلسطینی اسرائیلی بمباری سے زخمی ہے اور مدد کیلئے آوازیں دے رہا ہے اتنے میں ایک اسرائیلی ڈرون آتا ہے اور اس زخمی پر گولہ برسا دیتا ہے جس کا بدن ایک انسان سے ریت کے ذرات کی طرح بکھر جاتا ہے
ناجائز صیہونی یہودی ریاست نے اولاد انبیاء عوام فلسطین پر اس قدر مظالم ڈھائے ہیں کہ تاریخ کے اندر انہیں انتہائی شرمناک طور پر لکھا جائے گا مگر اس کے ساتھ تاریخ یہ بھی لکھے گی کہ غیور فلسطینیوں نے ہر قسم کا ظلم و ستم سہہ کر اپنی اولادیں اپنے ہاتھوں سے دفنا کر قبلہ اول کی آزادی کی جنگ سے منہ نا موڑا بلکہ ہر شہید ہونے والے گھر کا ہر فرد ایک نئے جوش و جذبے کیساتھ اسرائیل کیساتھ ٹکراتا ہے
ان شاءاللہ یہ ناجائز یہودی ریاست جلد مٹ جائے گی