اکتوبر یوم شہادت لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی۔ 1923ء میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1936ء میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔
16اکتوبر یوم شہادت
لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی۔ 1923ء میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1936ء میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔
سولہ اکتوبر1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسۂ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اوائل سرما کی اس شام نوابزادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کےاستقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ گارڈز کے مسلح دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ پنڈال میں چالیس پچاس ہزار کا مجمع موجود تھا
مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد لیاقت علی خاں مائیک پر آئے۔انہوں نے ابھی ’برادران ملت‘ کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔
وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر شہیدہوگئے۔
اگلے روز 17 اکتوبر 1951ء کو شہید ملت لیاقت علی خان کو قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں دفن کردیا گیا۔ حکومت پاکستان نے شہید ملت کے قتل کے اسباب کی تحقیقات کے لیے دو خصوصی کمیشن بھی تشکیل دیے مگر وہ دونوں کمیشن بھی سوائے اس کے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ لیاقت علی خان کا قتل سید اکبر کا انفرادی فعل تھا
شہید ملت لیاقت علی خاں نے ایک نوزائیدہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا عظیم کارنامہ سر انجام دیا اور اس کی اقتصادی صورتحال کو مستحکم کیا۔ ان کے دور میں ایک سو پاکستانی روپے ، 144 بھارتی روپوں کے برابر تھے۔
تقسیم کے بعد ہونے والے فسادات اور ان کے نتیجہ میں لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کی آمد سے پیدا ہونے والے مسائل سے عہدہ برآہ ہونے میں بھی کامیاب رہے۔
ان کے دور میں دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل قائم کی گئی تھی اور کوٹری بیراج کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔
انہی کے دور میں کراچی میں ناظم آباد کے ایک بڑے رہائشی منصوبے کا آغاز بھی کیا گیا تھا۔
انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا اور روس میں سفیر مقرر کر کے دور اندیشی کا ثبوت دیا تھا۔
شہادت کے بعد جب شہید ملت کی شیروانی اتاری گئی تو اس کے نیچےکرتا موجود نا تھا اور جو بنیان آپ نے پہن رکھا تھا وہ بھی پھٹا ہوا
تھا ملک کےوزیراعظم ہونےکےباوجود
شہادت کے بعد ان کے بینک اکاونٹ میں محض چند روپے تھے
آج 16 اکتوبر قائد ملت شہید ملت لیاقت علی خاں کی برسی تھی جو ہر سال کی طرح اس بار بھی خاموشی سے گزر گئی ملک کا سیاسی درجہ حرارت ضمنی انتخابات ہار جیت تیر بلا شیر ہی ہم سب کا موضوع سخن رہا اور اکابرین تحریک پاکستان کی یاد اور ان کی قربانیاں ہمیں نا تو ہمیں یاد رہی اور شائد نا ہی ہم یاد رکھنا چاہتے ہیں
ترتیب!محمد افتخار غزالی