October 28, 2026

*`باہمت بیٹی کی کہانی`* *تحریر پروفیسر غلام دستگیر صابر*

IMG-20241013-WA0069

*`باہمت بیٹی کی کہانی`*

*تحریر پروفیسر غلام دستگیر صابر*

*میں میرگل خان نصیر لائبریری میں موجود تھاکہ موبائل پرکال آئی۔دوسری جانب سے ایک لڑکی کی آواز آئی دستگیرصاحب آپ اس وقت کہاں ہیں؟*

*میں نے کہاجی میں گل خان نصیر لائبریری میں ہوں۔اس نے فوراً کہا اوکے سرمیں لائبریری آرہی ہوں.*
*اتفاق سے کامریڈحمید،نذیربلوچ اورکچھ دوسرے دوست بھی لائبریری میں موجود تھے ۔*

*تھوڑی دیر بعدروایتی پردے کے ساتھ ایک لڑکی آئی اس کے ساتھ اسکا چھوٹابھانجابھی تھا*

*سلام دعااوربلوچی احوال کے بعداس نے کہا پروفیسرصاحب میری کہانی سنیں۔*

*ہم سب متوجہ ہوگئے۔*

*اس نے دھیمی آوازمیں کہنا شروع کیامیرانام فرح یوسف ہے۔میں 1999 میں کلی غریب آباد نوشکی میں پیداہوئی۔والدصاحب بازارمیں ٹیلر ماسٹر تھے۔میں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول غریب آبادسے حاصل کی اور ہمیشہ فرسٹ آئی ۔بی ایس سی تک گرلزکالج نوشکی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ویمن یونیورسٹی سے انگریزی میں بی ایس کرنے کے بعدایم فل انگلش لینگویج میں لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈمیرین سائنس اوتھل سے کی ابھی پی ایچ ڈی کی تیاری کررہی ہوں۔میں نے انگریزی میں دوکتابیں بھی لکھی ہیں۔ابھی عارضی طور پر ایس بی کے نوشکی میں انگلش پڑھاتی ہوں*

*میں اسکول میں پڑھ رہی تھی کہ میرے پیارےبھائی جمعہ خان ایک حادثے میں شہیدہوگئے۔*
*فرح کی آنکھوں میں آنسوآگئے وہ کچھ دیر چپ رہی۔*
*پھرکہنے لگی یہ ایک عظیم سانحہ تھامگرمیں نے چھوٹی عمرمیں والدکویہ احساس نہیں ہونے دیاکہ اسکابیٹادنیامیں نہیں۔میں نے آٹھ سال کی عمر میں اپنے باباکی ٹیلرنگ کی دوکان میں کام کرنا شروع کیا۔بارہ سال کی عمرمیں نے گھرمیں دوکان کھولی اوروالدکابوجھ ہلکاکیا۔*

*مجھے بچپن سے ہی تعلیم کے ساتھ کھیلوں کاجنون حدتک شوق تھا۔میری کوشش تھی کہ کھیل میں بھی اپنے شہراوروطن کانام روشن کروں اور دنیاکو دکھاؤں کہ ہم بلوچ اور بلوچستانی کسی میدان میں پیچھے نہیں۔مارشل آرٹس،کرکٹ،فٹ بال،ہائی جمپ،باسکٹ بال،بیڈمنٹن سبھی میں خوب محنت کی۔*

*2010 میں آل بلوچستان جوڈو کراٹے میں گولڈ میڈل حاصل کی۔2016 میں بلوچستان اسپورٹس فیسٹیول میں دوبارہ گولڈمیڈل حاصل کی۔2016 ہی میں آل بلوچستان وومن بیڈمنٹن میں بھی گولڈمیڈل اپنے نام کیا۔2023میں میں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سےکوچنگ کی تربیت لی۔2023 میں فٹبال کی بین الاقوامی تنظیم FIFA کے زیر اہتمام لاہور میں ریفری کورس کے لئے سلیکٹ ہوگئی۔مجھے یہ اعزازبھی حاصل ہے کہ میں بلوچستان کی پہلی لڑکی ہوں جسے فیفانے 2024 میں ریفری کے لئے منتخب کیا۔میں بلوچستان کی واحدلڑکی ہوں جو پاکستان سپورٹس بورڈ میں کراٹے،ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن کی کوچنگ کی۔*

*سر آپ سمیت کسی کویقین نہیں کہ میں نے اب تک مختلف صوبائی اورقومی کھیلوں میں پچانوے گولڈ اوردیگر میڈلز اور سینتالیس ٹرافیاں اور بیشمار سرٹیفکیٹس حاصل کی ہیں۔اور یہ اعزاز شایدپورے ملک میں مجھے ملاہے۔مگر۔۔۔*

*وہ تھوڑی دیر چپ ہوگئی۔*
*لائبریری میں بیٹھے ہم سب حیرت سے اسکی بے مثال کامیابی کی باتیں سن رہے تھے۔ایک غریب لڑکی؟؟ ایم فل انگریزی کی ڈگری ؟انگریزی میں دوکتابوں کی مصنفہ؟فیفاانٹرنیشنل کے لئے بلوچستان کی واحدریفری لڑکی ؟گولڈمیڈلز سمیت سینکڑوں ایوارڈز؟؟*

*یقین جانیں میں دل میں بڑا شرمندہ ہورہاتھاکہ فرح کے گھراور میرے گھرکافاصلہ صرف دومنٹ کاہے اور مجھے اسکی حیرت انگیزاور تاریخی کارناموں کاعلم نہیں۔ہم سب سوچوں میں گم تھے کہ فرح کہنے لگی بلوچستان کی تاریخ میں اتنی کامیابیوں کے باوجود کسی نے میرے بارے میں ایک لفظ تک نہیں لکھا۔کسی اخبار اور ٹی وی چینل نے میرا ایک انٹرویو بھی نہیں لیا۔کسی بھی سرکاری آفیسراور ادارے نے میری حوصلہ افزائی تک نہیں کی۔مجھے کچھ بھی نہیں چائیے بس میری خواہش تھی کہ میرے لوگ میرے سرپر ہاتھ رکھ کر کہیں بیٹی شاباش۔*

*مگرکسی نے مجھے شاباشی تک نہیں دی۔میں آج آپ کے پاس اس لئے آئی ہوں کہ میں شدید مایوس ہوں۔آپ لکھیں کہ آج کے بعد کسی بھی کھیل میں حصہ نہیں لونگی۔*

*فرح کالہجہ نہایت تلخ اور مایوس کن تھا۔*

*میں نے پوچھا۔کیوں؟؟اتنی کامیابیوں کے بعدآپ اتنا مایوس کیوں ہیں؟*

*اس نے فوراً جواب دیا*

*پروفیسرصاحب میرا خیال تھاکہ میں اپنے شہراوروطن کانام روشن کرونگی،میں پندرہ سالوں سے مسلسل کامیابیاں حاصل کیں۔لیکن جب میں بلوچستان سے باہر جاتی ہوں سب مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ فرح تم اپناوقت ضائع کررہی ہو۔کاش تم بلوچ اوربلوچستانی نہ ہوتی تواس وقت سارا میڈیا چیخ چیخ کر تمہیں بریکنگ نیوز بناتا۔فرح تم نے سینکڑوں میڈلزکے ساتھ فیفاکی بلوچستان سے واحد ریفری سلیکٹ ہوئی۔کئی کھیلوں میں گولڈ میڈلز کے ساتھ کوچنگ بھی کی تم بلوچ اوربلوچستانی نہ ہوتی توعوامی اور سرکاری عہدیدار تمہارے گھر کا طواف کرتے۔فرح آج تک کسی اخبار میں تمہارا ایک انٹرویو بھی نہیں چھپا۔فرح اب گھرمیں بھیٹو تمہاری ٹیلنٹ کی قدرکوئی نہیں کریگا۔تم انگریزی میں ایم فل کرچکی ہو اور انگریزی میں دوکتابیں بھی لکھ چکی ہومگران سب کے باوجود ایس بی کے میں عارضی لیکچرار ہو۔تمہارے صوبے یاملک کی بجائے تمہارے شہرکے لوگ بھی تمہیں نہیں جانتے وہ دوبارہ چند لمحے خاموش ہوئی پھر کہنے لگی بلوچستان سے باہرکے کھلاڑی مجھے طعنے دیتے ہیں۔مجھ پرہنستے ہیں۔اب یہ طعنے مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتے۔*

*فرح نہایت مایوسی کی حالت میں نہایت تلخ لہجے میں نہ جانے کتنی دردناک باتیں کرتی رہی اور ہم شرم اور حیرت سے سنتے رہےکہ اتنی عظیم بیٹی کے ساتھ ہم نے کتناظلم کیاہے۔*

*اپنی بات ختم کرکے وہ اٹھی اورکہا اچھاسرخداحافظ۔اس کے آنسوبہہ رہے تھے۔وہ اتناکہہ کر نکل گئی کہ*
*بلوچ اوربلوچستانی ۔۔۔۔۔*

*فرح کے جانے کے بعدہم سب شرمندہ اور گم سم رہے۔*

*ایک ٹیلرماسٹر کی بیٹی نے تاریخ رقم کی مگر ہم اور ہمارے حکمران کتنے بے حس ہیں۔کتنی محنت سے اس نے وطن کانام روشن کیا؟*

*بلوچ اور بلوچستان کی عظیم بیٹی ہاتھ جوڑکر آپ سے التماس کرتاہوں کہ مایوس مت ہوں۔*

*ہے کوئی جو ایم پی اے حاجی غلام دستگیر بادینی اورایم۔این۔اے حاجی محمد عثمان بادینی اور ڈپٹی کمشنرنوشکی کو یہ پیغام دینے والاکہ تمہارے شہرکی ایک عظیم بیٹی تم سے کچھ نہیں چاہتی صرف اس کے سرپر ہاتھ رکھ کراسکی حوصلہ افزائی کریں*

*ہے کوئی جو وزیراعلی بلوچستان اور حکومتی عہدیداروں اور اربوں روپے ہڑپ کرنے والےمحکمہ کھیل کویہ پیغام دے کہ اس عظیم بیٹی کو بیشک ارشد ندیم کی طرح کروڑوں روپے نہ دے مگر اسکی حوصلہ افزائی کے لئے دولفظ اپنے منہ سے نکالے۔*

*ہے کوئی ایسا صحافی جوفرح کی کامیابیوں کی کہانی لوگوں تک پہنچائے؟*

*ہے کوئی ایساچینل جو فرح کا انٹرویو کرکے دنیاکودکھائے کہ اس بیٹی نے کتنے اعزازات حاصل کئے؟*

*ہے کوئی ایسا ادارہ جو فرح کے اعزازمیں ایک شاندار تقریب منعقد کرکے اس عظیم بیٹی کی حوصلہ افزائی کرے اور کہے شاباش فرح شاباش؟*

*یاد رکھیں اگربلوچستان کی اس عظیم بیٹی کی ہم سب نے قدر نہیں کی۔اسکی حوصلہ افزائی نہیں کی۔اسکی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کوصاف نہیں کیا تو آئندہ کوئی بھی بیٹی ایسی کامیابی اورمحنت کا سوچ بھی نہیں سکے گی۔اور ہم سب اس عظیم بیٹی فرح کے مجرم ہونگے۔*