October 28, 2026

بات تماری نہیں ھے سے زمانےکیھے سکھر بیورو چیف ۔۔ سید نصیر حسین زیدی ۔ دعا آن لاین نیوز

20241008_150654

بات تماری نہیں ھے
سے زمانےکیھے
سکھر بیورو چیف ۔۔
سید نصیر حسین زیدی ۔
دعا آن لاین نیوز
عمران خلاف تحریکِ عدم اعتماد آئی تو ایک ڈالر 182 روپے کا تھا. شہباز شریف نے حکومت سمبھالی تو 189 کا تھا. پھر یہ 333 تک گیا. اور اج 277.70 کا ہے. یعنی اب بھی88.7 روپے مہنگا ہے. جناب چئیرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب معیشت کیسے بہتر ہوئی؟ آپ کی اتحادی حکومت اب بھی خسارے میں ہے!
مزید یہ کہ July, 2018 (1$=Rs. 124.353414) June اور July,2017 (1$=Rs. 105.424984)
یعنی میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ تک ڈالر 105 کا تھا. ان کے بعد جولائی 2018 تک اس میں 19 روپے کا اضافہ ہوا. عمران نیازی نے حکومت سمبھالی تو اس کی وزارت عظمیٰ کے پونے چار سال میں ڈالر 124.353414 سے 182 تک پہنچا. یعنی پونے چار سال میں 56 کا اضافہ ہوا. جبکہ آپکی اتحادی حکومت میں اس سے کم مدت میں 88.7 روپے کا اضافہ ہوا. اور جولائی 2012 تک جب پاکستان پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو یہ 1$=RS. 94.377875 روپے کا تھا. اور جب پاکستان پیپلز پارٹی نے 2008 میں حکومت سمبھالی تو یہ 84 روپے کا تھا. جناب والا آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس بات کا پرچار کریں جو زمینی حقائق سے بھی ثابت ہو اور ہم بھی اس بات کو سینہ تان کر دوسروں کے سامنے رکھ سکیں.
اگر آپ محض سادہ روٹی پندرہ روپے کی ہونے کو معاشی بہتری تصور کر رہے ہیں جو کہ کسان کا معاشی قتل کرنے کی نتیجے میں ہوئی تو یہ درست انداز فکر نہیں. روٹی تا، ہمارے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دو روپے کی بھی ہوا کرتی تھی جسے نواز حکومت پندرہ روپے تک لے گئی. اور 2008 سے اب تک اگر بجلی گیس کے بلوں میں اضافے کی بات کریں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی. اصل بات روٹی اور ڈالر کی بھی نہیں. اصل بات قوت خرید اور روزگار کی ہے. جو عدم اعتماد کے بعد سے اب تلک والی اتحادی حکومت میں بتدریج کم ہوا. جناب آپ نئی نسل کے نمائندہ ہیں اور ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں یہ اعدادوشمار ہر خاص و عام کو میسر ہیں. اور آج کی پڑھی لکھی یوتھ یہ تقابل کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے. ہم جانتے ہیں آپ ملکی ترقی کے لیے کوشاں ہیں مگر اس دور میں بات وہی مناسب رہے گی جس سے کوئی چاہ کر بھی انکار نہ کر سکے!🙏

سید ۔نصیر حسین زیدی