پنجاب پولیس زندہ آباد۔ بہاولنگر پولیس فخر پنجاب پولیس تیرا بھی کوئی جواب نہیں شکریہ جناب محترم ڈی ایس پی صاحب سرکل ہارون آباد راؤ محمد سلیم صاحب، شکریہ جناب محترم ایس ایچ او صاحب تھانہ سٹی ہارون آباد ماجد اقبال انسپکٹر صاحب، شکریہ جناب افضل اے ایس آئی صاحب
پنجاب پولیس زندہ آباد۔ بہاولنگر پولیس فخر پنجاب پولیس تیرا بھی کوئی جواب نہیں
شکریہ جناب محترم ڈی ایس پی صاحب سرکل ہارون آباد راؤ محمد سلیم صاحب، شکریہ جناب محترم ایس ایچ او صاحب تھانہ سٹی ہارون آباد ماجد اقبال انسپکٹر صاحب، شکریہ جناب افضل اے ایس آئی صاحب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر
محترم و مکرمی جناب دبنگ پولیس آفیسر انصاف پسند ڈی پی او بہاولنگر نصیب اللہ خان صاحب اک نظر ادھر بھی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مورخ نے ہمیشہ حق سچ کی صحافت کو فروغ دینے کو ترجیح دیا اور عوام و الناس کی خدمت کے لئے کوشاں اور سرگرم عمل ہے مورخ نے ہمیشہ مظلوم طبقہ افراد کی آواز بن کر ارباب اختیار تک پہنچا کر انصاف دلانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا اور عوامی و علاقائی مسائل کے خاتمہ کے لئے اور عوامی فلاحی و ترقیاتی کاموں کے لئے اپنی قلمی طاقت سے بے شمار خدمات انجام دیں مورخ نے ہمیشہ جرائم پیشہ عناصر اور معاشرتی ناسوروں کو بے نقاب کیا اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا بہترین کردار ادا کرکے اپنی صحافتی زمہ داریوں کو بخوبی انجام دیا مورخ نے ہمیشہ پولیس کا مورال بلند کرنے کے لئے محکمہ پولیس بہاولنگر کی کارکردگی کو بہترین الفاظ میں نمایاں کرکے عوام اور پولیس دوستی جیسے عمل میں پولیس معاون ہونے کا ثبوت دیا مورخ کا قلم نا کبھی بکا ہے اور نا کبھی رکا ہے اور نہ ہی کبھی جھکے گا مورخ چند یوم قبل ہارون آباد چک نمبر 75 فور آر میں معروف قبضہ گروپ مافیا اور چٹی دلال گروپ مافیا جن کو سیاسی جماعت کا مکمل آشیر باد حاصل ہے اس ملکیتی وراثتی جگہ تعدادی 44 کنال میں جگہ 14 مرلہ تعدادی پر قبضہ کروانے میں محکمہ پولیس ہارون آباد کا کیا رول رہا اس پر ضرور لکھے گا اور تمام حقائق عوام و الناس اور ارباب تک ضرور پہنچائے گا کیونکہ مورخ نے تمام حقائق کو عوام و الناس اور ارباب اختیار پہنچانے کا بیڑا جو ٹھان رکھا ہے۔ واضح رہے کہ چک نمبر 75 فور آر ہارون آباد میں قبضہ کئے جانے والی جگہ متنازعہ جگہ تعدادی 44 کنال میں سے تعدادی 14 مرلے پر معروف قبضہ گروپ مافیا، چٹی دلال گروپ مافیا مقصود احمد، راؤ غلام محمد وغیرہ جن کو سیاسی آشیرباد بھی حاصل ہے تاحال ابھی بھی مکمل طور پر قابض ہیں جناب محترم ڈی ایس پی سرکل ہارون آباد راؤ محمد سلیم اور مقامی پولیس تھانہ سٹی ہارون آباد کی ملی بھگت سے قبضہ کی جانے والی جگہ تعدادی 14 مرلے کی رپورٹ حسب معمول سب اچھا کی پیش کی گئی ہے جو کہ ڈی ایس پی سرکل ہارون آباد راؤ محمد سلیم صاحب اور پولیس تھانہ سٹی ہارون آباد ملازمین کی کارکردگی کا مونہہ بولتا ثبوت ہے جنہوں نے برادری ازم کو ذاتی طور پر اولین ترجیح دیتے ہوئے اور معروف قبضہ مافیا گروپ، چٹی دلال گروپ مافیا اور سیاسی پارٹی کے محنتی قابل نمائندہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سائلین کے باپ دادا کے ملکیتی وراثتی احاطہ جات رجسٹری شدہ تعدادی 44 کنال واقع چک نمبر 75 فور آر ہارون آباد میں سے تعدادی 14 مرلے پر قبضہ گروپ مافیا کو مکمل قبضہ کرواکر سائلین کو ان کی حقیقی ملکیت سے محروم کر دیا گیا ہے جس کو پنچاب پولیس بہاولنگر کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جانا چاہئیے آج سے قبل ایسی کہیں بھی مثال نہیں ملتی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ قبضہ گروپ مافیا کی طرف سے قبضہ کئے جانے والے ملکیتی وراثتی احاطہ تعدادی 14 مرلہ پلاٹ کی دائیں سائیڈ والے چھپر کو ڈی ایس پی سرکل ہارون آباد راؤ محمد سلیم صاحب ہمراہ ایس ایچ او تھانہ سٹی ہارون آباد انسپکٹر ماجد اقبال ہمراہ منیر احمد سپیشل برانچ کے ہمراہ عارضی قائم شدہ چھپر کو ختم کرنے اور پلاٹ کو مکمل طور پر خالی کروانے کے فرضی احکامات سائلین کو مطمئن کرنے کے لئے جاری کئے جبکہ اب موجودہ صورتحال یہ ہے قبضہ گروپ مافیا نے دائیں سائیڈ سے چھپر کو ختم کردیا یے۔ اب دوسری جانب بنائے ہوئے چھپر کے نیچے جا کر اپنا ڈیرہ ڈال لیا ہے بائیں جانب سڑک کی طرف دروازہ لگانے کی بجائے قبضہ کئے جانے والے پلاٹ کی طرف دروازہ نکال لیا گیا ہے اس گھر میں 14,15 خواتین کو بٹھا دیا گیا ہے۔ جو کہ سائلین کو غلیظ قسم کی گالیاں اور انتہائی غلیظ قسم کی زبان استعمال کرتی ہیں۔ قبضہ گروپ نے متںازعہ جگہ کا قبضہ ہرگز نہ چھوڑا ہے۔ اب بائیں جانب کھڑے کردہ چھپر کے نیچے چارپائیاں بچھا کر اپنے مسلح افراد غنڈہ عناصر کو بٹھا رکھا ہے دن میں 4٫5 افراد جبکہ رات کو 10,12 افراد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جو کہ چھپر کے نیچے چارپائیاں بچھا کر بیٹھتے ہیں اس خالی پلاٹ میں بائیں جانب جانور مویشیوں کو باندھ دیا گیا ہے رات کو روڑی گوبر میں آگ لگا کر دھواں کر دیا جاتا ہے تاکہ وہاں کا منظر کسی کو بھی نطر نا آ سکے اس متنازعہ پلاٹ میں دو لوڈر رکشہ کھڑے کر دئیے گئے ہیں۔ ہماری سائیڈ والی ملحقہ دیوار متنازعہ پلاٹ کی دیوار سے پیچھے والی دیوار کو توڑ کر متنازعہ پلاٹ کے پیچھے وہی پرانی اینٹیں لگا کر چھوٹی سی بنیاد کی صورت میں دیوار بنادی گئی ہے اس پر کیکر کے چھاپے و کانٹے رکھے گئے ہیں تاکہ جعلی اور فرضی قبضہ شو کیا جائے۔ جہاں پر یہ قبضہ گروپ موجود ہیں اس کی چھت پر اور سائیڈوں پر اور سامنے والے گھر کی چھت پر ہیوی قسم کی فوگس لائیٹس لگا دی گئی ہیں ان کا رخ ہمارے قبضہ کئے جانے والی جگہ کے پیچھے ہمارے پلاٹس اور مزارہ جات کے گھروں کی جانب کر دیا گیا ہے۔ تاکہ ہماری طرف سے کسی قسم کی نقل و حرکت کا قبضہ گروپس کو بخوبی پتہ لگ سکے۔ رات 8 بجے کے بعد 9,10 افراد ہاتھوں میں لاٹھیاں لے کر متنازعہ پلاٹ کی بیک سائیڈ پر پہرہ دیتے ہیں چارپائیاں بچھا کر اونچی آواز میں قہقے لگا کر گالیاں نکالتے ہیں۔ قبضہ گروپ علاقہ مکین کو سرعام کہتے پھرتے ہیں کہ ہماری پہنچ اوپر تک ہے ہم نے جن مالکان ملک صاحبان کے پلاٹ پر قبضہ کیا ہے ان کی طرف سے آواز اٹھانے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنا دیں تو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہم نے مقامی پولیس اور ڈی ایس پی سرکل ہارون آباد راؤ محمد سلیم کو بھاری رقم دے کر ان کی زیرسرپرستی قبضہ کر لیا ہے۔ ڈی ایس پی سرکل ہارون آباد راؤ محمد سلیم اور مقامی پولیس تھانہ سٹی کے ملازمین نے ہمیں اجازت دے رکھی ہے کہ آپ سے ملک صاحبان کے کسی بھی فرد کی ہڈی نا ٹوٹے یا زخم چوٹ نہ آئے باقی آپ کو بالکل کچھ نہیں ہوگا اب قانون مکمل طور پر ہمارے ساتھ دی رہی ہے اور سیاسی جماعت کا ہاتھ بھی ہمارے سر پہ ہے جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی کے مترداف ہے ہماری ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر جناب نصیب اللہ خان صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ فی الفور ازخود نوٹس لے کر سائلین کی دادرسی فرمائی جائے اور اس وقوعہ میں ملوث افراد کے خلاف اور زمہ داران کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور سائلین کو ان کا حق واپس دلوایا جائے جو کہ عین قرین انصاف ہے۔
بقول شاعر ساغر صدیقی
جس عہد میں لٹ جائے کسی فقیر کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے۔