October 28, 2026

‏مجوزہ آئینی ترمیم، پاکستان بار کونسل نے اپنی تحریری تجاویز وفاقی حکومت کو بجھوا دیں،پاکستان بار کونسل نے آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق کرلیا،آرٹیکل 63 اے میں لکھا جائے کہ ووٹ شمار بھی ہوگا،پارٹی ہدایت کے برخلاف ووٹ ڈالنے والے ممبر کی نااہلی پانچ سال کرنے

20241008_150654

‏مجوزہ آئینی ترمیم، پاکستان بار کونسل نے اپنی تحریری تجاویز وفاقی حکومت کو بجھوا دیں،پاکستان بار کونسل نے آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق کرلیا،آرٹیکل 63 اے میں لکھا جائے کہ ووٹ شمار بھی ہوگا،پارٹی ہدایت کے برخلاف ووٹ ڈالنے والے ممبر کی نااہلی پانچ سال کرنے کی، آرٹیکل 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن کے ممبران میں ہائیکورٹ کے ججز کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس متعلقہ ہائی کورٹ، سینئر جج ہائی کورٹ، صوبائی وزیر قانون اور صوبائی بار کے نمائندے کو شامل کیا جائے،چیف جسٹس پاکستان اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کیلئے تین تین سینئر ججز کے ناموں پر غور کیا جائے،وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے صدارتی آرڈر کے زریعے تبدیلی کی شق خذف کی جائے،وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کا تقرر تین سال ریٹائر منٹ کی عمر 68 سال کی جائے، ہائیکورٹ میں جج کی تعیناتی کی عمر کی شرط 45سال رکھی جائے،وفاقی آئینی عدالت کو انصاف کے تقاضوں کے تحت آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ سے ایک کیس دوسری ہائی کورٹ متنقل کرنے کا اختیار دیا جائے،آرٹیکل 215 سے متعلق مجوزہ ترمیم کو مسودے سے خذف کیا جائے، پاکستان بار کونسل کی تجویز۔۔۔!!!