October 24, 2026

*قال اللہ، قال الرسول اور آثارِ صحابہ: جامد رسومات سے خالص اسلام کی طرف واپسی کی دعوت* ہفتہ 24 اکتوبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2026-10-23_184935.895

*قال اللہ، قال الرسول اور آثارِ صحابہ: جامد رسومات سے خالص اسلام کی طرف واپسی کی دعوت*

ہفتہ 24 اکتوبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

برصغیر پاک و ہند کا تاریخی المیہ یہ رہا ہے کہ جب مغرب اور یورپ میں سائنس، عقل، تحقیق اور کارخانوں کے ذریعے دنیا مسخر ہو رہی تھی، تب اس خطے میں توہم پرستی، قبر پرستی اور بے بنیاد بدعات کے کارخانے عروج پر تھے۔ یہ سوال شدت سے پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اس گمراہی کے اندھیروں میں امت کو رکھنے والے کون لوگ تھے؟

* علمائے سوء اور مفاد پرست طبقے کا مجرمانہ کردار:
امت کی اس تباہی کے سب سے بڑے ذمہ دار وہ نام نہاد علماء اور پیشوا ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات، خانقاہوں کی نذر و نیاز، اور عوام میں اپنی سرداری کو بچانے کے لیے قرآن و سنت کے نور کو چھپایا۔ جب عوام جہالت کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی تھی، تو ان مفاد پرست علماء نے انہیں صحیح دین (قال اللہ، قال الرسول) بتانے کے بجائے ان کی جہالت کو تقویت دی، تاکہ ان کی دکانیں چمکتی رہیں۔ انہوں نے دین کو توحید و سنت سے ہٹا کر رسم و رواج اور پیر پرستی کا مجموعہ بنا دیا۔

* بدعتی کی نفسیات: جہالت کو عین نیکی سمجھنا:
ایک مسلّمہ اصول ہے کہ بدعتی اپنی بدعت کو نہیں چھوڑتا، کیونکہ وہ اسے گناہ نہیں بلکہ عینِ ثواب اور نیکی سمجھ کر کر رہا ہوتا ہے۔ جب کسی انسان کو جھوٹے عقائد اور بدعات کو دین کا نام دے کر گھوٹ دیا جائے، تو وہ اپنی جہالت کو ہی حق سمجھ بیٹھتا ہے۔ وہ قرآن و سنت کی واضح دلیل کو بھی اپنے بزرگوں کے نام نہاد معمولات پر قربان کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی مصلح حق کی بات کرتا ہے، تو بدعتی طبقہ اسے توڑنے کے لئے اسی پر چمٹا رہتا ہے اور اصلاح کی ہر کوشش کو مخالفت سمجھ لیتا ہے۔

* اسلام کا اصل منشا: قال اللہ، قال الرسول اور آثارِ صحابہ
اسلام کا اصل منشا اور مقصود کسی پیر، فقیہ یا بزرگ کی اندھی تقلید نہیں، بلکہ بندے کا براہِ راست اپنے خالق سے تعلق جوڑنا ہے۔

* قال اللہ اور قال الرسول: دین میں حلال و حرام کا فیصلہ صرف اللہ کا حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ کسی کی بات کو وحی الٰہی کے مقابلے میں سند نہیں بنایا جا سکتا۔

* آثارِ صحابہ کا مدار: دین کو سمجھنے کا سب سے بہترین اور مستند معیار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فہم اور ان کا عمل ہے۔ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو براہ راست دیکھا، دین کو سمجھا اور اس پر عمل کیا۔ آج اگر ہم نجات چاہتے ہیں تو ہمیں اسی نهج پر لوٹنا ہوگا جس پر خلفائے راشدین اور صحابہ کرام تھے۔

* بیداری کا وقت اور اصل پگڈنڈی
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر خالص قرآن، صحیح احادیث اور صحابہ کرام کے طرزِ عمل کو اپنایا جائے۔ دنیا جہاں عقل اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آگے نکل گئی، ہم آج بھی فرضی قصے کہانیوں اور خود ساختہ رسومات میں الجھے ہوئے ہیں۔
اگر اس امت کو دنیا اور آخرت میں سرخرو ہونا ہے، تو اسے اپنے مسلک، پیر یا فرودگاہ کی قید سے نکل کر قال اللہ، قال الرسول کی صدا پر لبیک کہنا ہوگا۔ بدعتوں کی اس تاریک دلدل کو چھوڑ کر سنتِ نبوی کے روشن راستے پر چلنا ہی کامیابی کی واحد ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333