October 25, 2026

فکرِ فردا: توہمات کے اندھیروں سے شمعِ توحید کی روشنی کی طرف دعوت اتوار 25 اکتوبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2026-10-23_184935.895

فکرِ فردا: توہمات کے اندھیروں سے شمعِ توحید کی روشنی کی طرف دعوت

اتوار 25 اکتوبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

تاریخ کا ہر طالب علم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اقوام کی عزت، بقا اور حقیقی ترقی کا راز ہمیشہ محنت، علم، عقل اور محکم اصولوں پر عمل پیرا ہونے میں مضمر رہا ہے۔ جب کوئی معاشرہ محنت، تحقیق اور تدبیر کا دامن چھوڑ کر محض فرضی قصوں، چِلّہ کشی، تعویذ گنڈوں اور خود ساختہ رسومات پر تکیہ کرنے لگتا ہے، تو فکری جمود اور زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند کا یہ ایک دردناک المیہ ہے کہ جب دنیا سائنسی عروج اور فکری بیداری کی طرف بڑھ رہی تھی، تب اس خطے میں توہم پرستی اور غیر شرعی خرافات کے کارخانے آباد کر دیئے گئے۔ جب ہم عرب کے خطے، تاریخِ اسلام اور قرونِ اولیٰ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے دور) کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں وہاں نہ کوئی آستانے نظر آتے ہیں، نہ نام نہاد غوث و قطب اور ابدال کی وہ تشریح ملتی ہے جو بعد میں گھڑی گئی، اور نہ ہی شاہ دولہ کے چوہوں یا ملنگوں کا کوئی وجود ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین میں ایسی تمام خود ساختہ باتوں سے سخت خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
من احدث فی امرنا هذا ما ليس منه فهو رد
ترجمہ: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں تھی، تو وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری)

سب سے بڑا فکری بگاڑ یہ عقیدہ بنا دیا گیا ہے کہ انسان دنیا سے رخصت ہونے کے بعد یا اللہ کے کچھ برگزیدہ بندے ایسے اختیارات پا جاتے ہیں جو انہیں زندگی میں حاصل نہیں تھے۔ یہ سوچنا کہ کائنات کا نظام چلانے کے لیے زمین کے مختلف مزارات اور آستانوں پر تکیہ کیا گیا ہے، قرآن مجید کی صریح تعلیمات کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يدبر الامر من السماء الى الارض
ترجمہ: وہی اللہ آسمان سے لے کر زمین تک تمام امور کی تدبیر اور نظام چلاتا ہے۔ (سورۃ السجدہ: 5)
اسی طرح نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وان يمسسك الله بضر فلا كاشف له الا هو وان يمسسك بخير فهو على كل شيء قدير
ترجمہ: اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں کوئی خیر پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۃ الانعام: 17)

تعویذوں اور غیر شرعی دم درود کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے:
ان الرقى والتمائم والتولة شرك
ترجمہ: بے شک (غیر شرعی) دم، تعویذ اور محبت کے منتر شرک ہیں۔ (سنن ابی داؤد)
اس تمام بگاڑ کے اصل مجرم وہ نام نہاد مفاد پرست عناصر اور علماء سوء ہیں جنہوں نے اپنی دکانیں اور گدیاں چمکانے کے لیے عوام کو توحید اور کتاب و سنت سے کاٹ کر فانی انسانوں کا محتاج بنا دیا۔ انہوں نے عوام کے سامنے “قال اللہ و قال الرسول” کے روشن دلائل چھپائے اور اپنی ذات یا آراء کو دین کا معیار بنا دیا۔

دینِ اسلام کا اصل منشا اور روح انسان کو تمام مخلوقات کی محتاجی سے نکال کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی سے جوڑنا ہے۔ اسلام کا واضح پیغام ہے کہ بیماریاں ہوں، معاشی بحران ہوں یا کوئی بھی مشکل، ان کا حل جائز دنیاوی تدبیر، محنت، اسباب کو اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ سے براہِ راست دعا مانگنے میں ہے، نہ کہ آستانوں پر جا کر معجزاتی حل تلاش کرنے میں۔

حقیقی کامیابی اور نجات کا مدار کسی شخص، پیر یا آستانے کی اندھی تقلید پر نہیں، بلکہ قال اللہ اور قال الرسول کے بنیادی سرچشمے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فہم پر ہے۔

جب تک امت اسباب کی دنیا میں محنت کرنے، جدید علوم کو اپنانے اور خالص توحید کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے کے بجائے وظائف اور تعویذوں کے سہارے بیٹھی رہے گی، وہ علمی اور معاشی میدانوں میں دنیا سے پیچھے ہی رہے گی۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تعصبات، خوف اور اندھی تقلید کی زنجیروں کو توڑ کر باہر آئیں، اپنی اگلی نسلوں کو بیدار کریں، اور انہیں علم، تحقیق، محنت اور خالص سنتِ نبوی کے روشن راستے پر گامزن کریں۔ جذباتی محاذ آرائی سے ہٹ کر تدبر اور حکمت کے ساتھ حق کا پیغام آگے بڑھانا ہی اصل بیداری ہے۔

الدعاء
اللہ تعالیٰ ہماری اس فکری کوشش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے ہدایت و بیداری کا ذریعہ بنائے!

آمین یا رب العالمین

تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333