نامور ماہر تعلیم عمران عباس بھٹی کی بطور پرنسپل گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول آدھی کوٹ تعیناتی خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
نامور ماہر تعلیم عمران عباس بھٹی کی بطور پرنسپل گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول آدھی کوٹ تعیناتی
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
تعلیم محض کتابیں پڑھنے، امتحانات پاس کرنے اور ڈگریاں حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی شخصیت سنوارنے، کردار سازی، شعور و آگہی پیدا کرنے اور ایک مہذب و ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی میں سربراہ ادارہ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ایک باصلاحیت، مخلص، محنتی اور وژن رکھنے والا سربراہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے نہ صرف ادارے کا تعلیمی ماحول بہتر بناتا ہے بلکہ اساتذہ اور طلبہ میں بھی نئی امنگ، جذبہ اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔
اسی حوالے سے ممتاز ماہرِ تعلیم عمران عباس بھٹی کی بطور پرنسپل سکیل نمبر 19، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول آدھی کوٹ تعیناتی اور عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھالنا ایک خوش آئند تعلیمی پیش رفت ہے۔ ان کی تعیناتی سے ادارے میں تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ، تدریسی معیار میں بہتری اور طلبہ کی ہمہ جہتی تعلیم و تربیت کے حوالے سے نئی توقعات وابستہ ہو گئی ہیں۔
عمران عباس بھٹی کی آمد پر ادارے کے جملہ سٹاف کی جانب سے جس محبت، خلوص اور گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اساتذہ اور دیگر عملے نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے اپنے نئے سربراہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ یہ خوبصورت استقبال اس حقیقت کا اظہار بھی تھا کہ کسی ادارے کی اصل طاقت اس کے افراد کا باہمی اعتماد، اتحاد، تعاون اور مشترکہ مقصد کے لیے کام کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔
اس موقع پر عمران عباس بھٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شاندار استقبال پر تمام عملے کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے تمام رفقائے کار کے ساتھ مل کر وطن عزیز کے نونہالوں کی معیاری تعلیم و تربیت کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے بجا طور پر کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کے روشن مستقبل کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔
بلاشبہ یہ الفاظ ایک ذمہ دار ماہرِ تعلیم کی مثبت سوچ، احساسِ ذمہ داری اور تعلیمی مشن سے وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آج کے بچے ہی کل کے معمار، سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، افسران اور ملک و قوم کے رہنما ہوں گے۔ اگر ہم نے انہیں معیاری تعلیم کے ساتھ بہترین اخلاق، اعلیٰ کردار، خود اعتمادی اور مثبت سوچ سے آراستہ کردیا تو یہی نسل پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
ایک اچھے پرنسپل کی ذمہ داری صرف ادارے کے انتظامی امور چلانا نہیں بلکہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی، طلبہ کی تعلیمی مشکلات کا ازالہ، نظم و ضبط کا قیام، تعلیمی نتائج میں بہتری اور والدین کے ساتھ مؤثر رابطے کو یقینی بنانا بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید تعلیمی تقاضوں، سائنسی و تخلیقی سرگرمیوں، کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید ہے کہ عمران عباس بھٹی اپنی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ان تمام شعبوں میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کی حقیقی ترقی اجتماعی کوششوں سے ممکن ہوتی ہے۔ سربراہ ادارہ اگر اپنے اساتذہ کو عزت، اعتماد اور مناسب رہنمائی فراہم کرے تو اس کے نتائج یقیناً بہتر صورت میں سامنے آتے ہیں۔ عمران عباس بھٹی کا اپنے تمام رفقائے کار کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم اسی اجتماعی قیادت کی بہترین مثال ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ ان کی سربراہی میں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول آدھی کوٹ تعلیمی میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گا اور طلبہ کی علمی، اخلاقی اور عملی تربیت کے حوالے سے ایک مثالی ادارے کے طور پر اپنی پہچان مزید مستحکم کرے گا۔
عمران عباس بھٹی کی اس اہم ذمہ داری سنبھالنے پر عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار اس بات کا مظہر ہے کہ معاشرے میں تعلیم اور اہلِ تعلیم سے وابستہ شخصیات کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ عہدے اور منصب انسان کو پہچان نہیں دیتے بلکہ انسان اپنے کردار، محنت، اخلاص اور خدمت سے اپنے منصب کو عزت بخشتا ہے۔ عمران عباس بھٹی کے لیے یہ ایک نئی ذمہ داری کے ساتھ ایک نیا تعلیمی سفر بھی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس ذمہ داری میں سرخرو فرمائے، ان کے علم و تجربے میں برکت عطا کرے اور ان کی کاوشوں کو نسلِ نو کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔ آمین!