ہارون آباد (نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر)2 نومبر: صحافت، سچائی اور قلم کی حرمت کا عالمی دن ہے
ہارون آباد (نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر)2 نومبر: صحافت، سچائی اور قلم کی حرمت کا عالمی دن ہے سعود فاروق خان چغتائی۔صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی آنکھ، کان اور ضمیر ہوتی ہے۔ یہ صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت اور قومی ذمہ داری ہے، ڈاکٹر عارف رضا ملک۔صحافت کا بنیادی مقصد سچ کو بے نقاب کرنا، مظلوم کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانا سجاد خان۔ صحافی کو چاہیے عوامی مسائل کو اجاگر کرے۔2 نومبر کا دن پوری دنیا میں صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے اور ان کے تحفظ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے زاہد حسین انجم۔ صحافت کا یہ دن ہمیں ان عظیم صحافیوں کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے حاجی یونس آفتاب ۔جنہوں نے حق اور سچ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ تک پیش کر دیا۔ آج بھی دنیا کے کئی خطوں میں صحافی سچ لکھنے کی پاداش میں دھمکیوں، دباؤ، جھوٹے مقدمات اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں راشد سعدی ۔صحافت محض خبر دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔حافظ ثاقب محمود۔ایک ذمہ دار اور باوقار صحافی کے لیے تحقیق، غیر جانبداری، دیانتداری اور سچائی بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔ ایم آصف قمر ۔ذاتی مفادات، سنسنی خیزی اور جھوٹی خبروں کے بجائے عوامی مفاد اور قومی سلامتی کو ترجیح دینا ہی حقیقی اور بامقصد صحافت کہلاتی ہے۔عادل سلظان۔الحمدللہ شہر کی سینئیر صحافی بھائیوں کی قیادت میں غریب اور مستحق افراد کی خدمت کا سلسلہ ہمیشہ جاری وساری رہے گا سید نوید شاہ عثمانی۔ حکومت وقت اور متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ، آزادی اظہار رائے اور پیشہ ورانہ حقوق کو ہر صورت یقینی بنائیں،چوہدری غلام دستگیر سنی۔ قلم آزاد رہے اور سچ بے خوف ہو کر سامنے آئے۔یاد رکھیے! قلم کی اصل طاقت اس کی سچائی میں ہے۔ آزاد، غیر جانبدار اور ذمہ دار صحافت ہی ایک باشعور، مہذب اور جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔عبد الرشید یوسفی۔صحافی کی آواز کو دبانا دراصل عوام کے بنیادی حقِ آگاہی کو دبانے کے مترادف ہے۔ڈاکٹر ذوالفقار قریشی۔