نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)بختاور کیڈٹ کالج میں پانچویں سہ لسانی تقریری مقابلوں اور سائنس
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)بختاور کیڈٹ کالج میں پانچویں سہ لسانی تقریری مقابلوں اور سائنس نمائش کا شاندار انعقادقومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ مہمانِ خصوصی، چیف جج محمد علی درانی اور بورڈ آف گورنرز کے اراکین کی شرکت؛ نوجوانوں کی علمی، تخلیقی اور سائنسی صلاحیتوں کو سراہا گیا۔بختاور کیڈٹ کالج فار گرلز میں پانچویں سہ لسانی تقریری مقابلوں اور سائنس نمائش کا شاندار اور پروقار انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے مختلف نامور کیڈٹ کالجز اور تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ تھے، جبکہ چیف جج محمد علی درانی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، بورڈ آف گورنرز (BOG) کے معزز اراکین اور دیگر اہم شخصیات بھی تقریب میں شریک ہوئیں۔تقریب کے دوران سندھی، اردو اور انگریزی زبانوں میں تقریری مقابلے منعقد کیے گئے، جن میں شرکاء نے اپنی علمی قابلیت، فکری پختگی، خود اعتمادی اور فنِ تقریر کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ طلبہ و طالبات نے مختلف سماجی، علمی، اخلاقی اور قومی موضوعات پر مؤثر، مدلل اور فکر انگیز تقاریر پیش کرکے حاضرین سے داد وصول کی۔ ان مقابلوں کا مقصد نوجوانوں میں اظہارِ خیال کی صلاحیت، زبانوں سے محبت، ادبی ذوق اور خود اعتمادی کو فروغ دینا تھا۔ان مقابلوں میں اوکاڑہ، مری، جھنگ، لاڑکانہ، سانگھڑ، خیرپور، کرم پور اور پیٹارو سمیت ملک کے مختلف نامور کیڈٹ کالجز جبکہ گرلز ڈگری کالج نواب شاہ کی طالبات نے بھی شرکت کی۔ مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی مشترکہ شرکت نے تقریب کو علمی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور صحت مند مسابقت کی خوبصورت مثال بنا دیا۔ تقریب کا ایک اہم اور دلچسپ حصہ سائنس نمائش تھی، جس میں طلبہ و طالبات نے اپنی تخلیقی سوچ، سائنسی شعور، تحقیقی رجحان اور فنی صلاحیتوں پر مبنی مختلف ماڈلز اور منصوبے پیش کیے۔ نمائش میں پیش کیے گئے منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں کی جدت پسندی، مسائل کے نئے حل تلاش کرنے کی صلاحیت اور جدید سائنس سے دلچسپی کو اجاگر کیا گیا۔ طلبہ نے اپنے علم کو عملی شکل میں پیش کرتے ہوئے اس امر کا اظہار کیا کہ مناسب رہنمائی اور مواقع میسر آنے پر نوجوان سائنسی اور تخلیقی شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ نمائش کا مقصد طلبہ میں تحقیق، تجربات، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی سوچ کو فروغ دینا تھا۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کی صلاحیتوں، محنت، ذہانت اور روشن مستقبل کے لیے ان کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی علمی، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایسی سرگرمیاں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، تحقیق، جدت اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے ان مقابلوں کو طلبہ کی شخصیت سازی، خود اعتمادی میں اضافے اور قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
تقریب میں چیف جج محمد علی درانی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، بورڈ آف گورنرز کے اراکین اور دیگر معزز مہمانوں کی شرکت نے تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھایا۔ ایسی سرگرمیاں تعلیمی اداروں میں علمی معیار بہتر بنانے، طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنے اور نوجوان نسل کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔مقابلوں کے اختتام پر مختلف کیٹیگریز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو پوزیشنیں حاصل کرنے پر شیلڈز پیش کی گئیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی، جبکہ دیگر شرکاء کی محنت، قابلیت اور جذبے کو بھی سراہا گیا۔
بختاور کیڈٹ کالج فار گرلز میں منعقد ہونے والی یہ تقریب زبان و ادب، سائنس اور تخلیقی سوچ کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔ تقریب نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار، علمی میدان میں آگے بڑھنے اور ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے مزید محنت کرنے کا پیغام دیا۔ ایسی سرگرمیاں نہ صرف طلبہ کی علمی اور فنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ ان میں اعتماد، احساسِ ذمہ داری، مثبت سوچ اور قومی خدمت کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہیں۔