October 26, 2026

سامارو: زمین پر قبضے، مویشی بند کروانے، پانی روکنے اور دھمکیاں دینے کے الزامات، سلمان قائم خانی اور

IMG-20261025-WA0187

سامارو: زمین پر قبضے، مویشی بند کروانے، پانی روکنے اور دھمکیاں دینے کے الزامات، سلمان قائم خانی اور دیگر کی نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس
(رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی)
سامارو: سلمان ولد غلام نبی قائم خانی، تیمور قائم خانی اور عمیر قائم خانی نے نیشنل پریس کلب سامارو پہنچ کر وحید قائم خانی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی 7 ایکڑ 27 گھنٹے زمین پر قبضہ کیا گیا ہے، جس کی رجسٹری بھی ان کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے حکومت سندھ اور متعلقہ پولیس حکام سے معاملے کا نوٹس لے کر انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان قائم خانی نے الزام لگایا کہ 23 تاریخ کو ان کے مویشی ان کی زمین پر چر رہے تھے کہ اس دوران مبینہ طور پر کچھ نامعلوم افراد کے ذریعے ان کے مویشی پکڑوا کر وحید قائم خانی کی اوطاق پر بندھوا دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے چچا مویشی واپس لینے گئے تو انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور وہاں بٹھا لیا گیا۔
سلمان قائم خانی کے مطابق، اطلاع ملنے پر جب وہ دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ موقع پر پہنچے تو وہاں موجود بعض افراد کے پاس مبینہ طور پر پستول بھی تھے اور ان کے چچا کو ہراساں کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں وہ سامارو پولیس اسٹیشن پہنچے اور درخواست دی، جبکہ ایس ایس پی عمرکوٹ سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی۔
ان کا مزید الزام تھا کہ پولیس اسٹیشن پہنچنے سے قبل ہی ان کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ زمین کے معاملے کے ساتھ ساتھ ان کی زرعی زمینوں کو پانی دینے سے بھی روکا جا رہا ہے، حالانکہ ان کے پاس عدالت کا حکم بھی موجود ہے۔
سلمان قائم خانی، تیمور قائم خانی اور عمیر قائم خانی نے الزام عائد کیا کہ انہیں مبینہ طور پر جان سے مارنے، مقدمات میں پھنسانے اور زمینوں سے بے دخل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس تنازع کے باعث ان کی اور ان کے اہلِ خانہ کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے حکومت سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص، ایس ایس پی عمرکوٹ، ڈی ایس پی سامارو اور ایس ایچ او سامارو سے پُرزور مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، زمین کی ملکیت اور قبضے کے تنازع کا قانونی طریقے سے فیصلہ کیا جائے، زرعی پانی کی فراہمی سے متعلق شکایت کا جائزہ لیا جائے اور انہیں و ان کے اہلِ خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔