October 8, 2026

عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال ضلع عمرکوٹ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اور بے

IMG-20261008-WA0144

عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال
ضلع عمرکوٹ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اور بے قابو اضافے نے غریب، مزدور اور سفید پوش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہو چکا ہے، جبکہ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی چیز بھی ان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔*
*عوام نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ محکمے کہاں ہیں*؟ *اگر سرکاری نرخ مقرر ہیں تو مارکیٹ میں ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ عوام کو ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا گیا ہے*
*عوام کا کہنا ہے کہ جب ایک غریب باپ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام نہ کر سکے تو یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی بحران بن جاتا ہے۔ انتظامیہ کی خاموشی اور عدم توجہی نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔*
*ضلع عمرکوٹ کے عوام نے کمشنر عمرکوٹ، ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے،* *ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ غریب عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔*
جب کہ دوسری جانب کنری تعلقہ میں چکی مالکان کی جانب سے آٹے کے من پسند نرخ مقرر
چکیوں پر گندم کا آٹا 140 سے 145 روپے فی کلو فروخت ہونے لگا
آٹے کی قیمت 5600 سے 5800 روپے فی من تک پہنچ گئی
سرکاری کوٹہ ریلیز نہیں ہوا، مارکیٹ میں گندم دستیاب نہیں، نرخ کم نہیں کر سکتے: چکی مالکان
انتظامی بے حسی کے باعث عوام مشکلات کا شکار، کوئی پوچھنے والا نہیں: شہری
کنری میں آٹے کے من پسند نرخوں پر شہریوں میں تشویش کی لہر