October 7, 2026

سکھر(بیورورپورٹ۔ سید ۔نصیر حسین زیدی دعا ان لاہین ۔جوش)شہید بادشاہ گاؤں میرو خان سعید آباد

IMG-20261007-WA0172

سکھر(بیورورپورٹ۔ سید ۔نصیر حسین زیدی دعا ان لاہین ۔جوش)شہید بادشاہ گاؤں میرو خان سعید آباد کے رہائشی خروس برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین نے سعید آباد پولیس پر اپنے بھائی حفیظ اللہ خروس کو مبینہ طور پر بلاجواز گرفتار کرکے لاپتا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سکھر پریس کلب کے سامنے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ حفیظ اللہ خروس کو فوری طور پر بازیاب کرا کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے اور انہیں انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے۔احتجاج میں شریک مائی شہزادی اور مائی وحیداں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بھائی حفیظ اللہ خروس تقریباً 12 روز قبل ان کے ہمراہ دوائی لینے کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں سعید آباد تھانے کی پولیس نے چیکنگ کے دوران اسے گرفتار کرلیا، جس کے بعد سے وہ مبینہ طور پر لاپتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد جب اہل خانہ حفیظ اللہ خروس کے بارے میں معلومات لینے سعید آباد تھانے پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ حفیظ اللہ ایک مقدمے میں ملوث ہے۔خواتین کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس کو آگاہ کیا کہ مذکورہ مقدمے میں حفیظ اللہ خروس عدالت سے ضمانت پر رہا ہوچکا ہے، جس کے ثبوت اور عدالتی احکامات کی نقول بھی ان کے پاس موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود پولیس کی جانب سے اسے رہا نہیں کیا جا رہا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ حفیظ اللہ کی رہائی کے عوض ان سے مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے، جبکہ انہیں اپنے بھائی سے ملاقات تک کی اجازت نہیں دی جارہی۔مائی شہزادی اور مائی وحیداں نے روتے ہوئے کہا کہ انہیں شدید تشویش ہے کہ ان کا بھائی اس وقت کس حالت میں ہے اور کہاں موجود ہے، انہیں اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہل خانہ مسلسل تھانے اور متعلقہ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں، مگر انہیں تسلی بخش جواب نہیں مل رہا۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر رینج اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حفیظ اللہ خروس کی موجودگی کا سراغ لگایا جائے، اگر وہ کسی مقدمے میں مطلوب ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر عدالت سے ضمانت پر رہا ہوچکا ہے تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔خروس برادری کی خواتین نے مزید مطالبہ کیا کہ حفیظ اللہ خروس کے اہل خانہ کو اس سے ملاقات اور اس کی خیریت سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں، جبکہ مبینہ رشوت طلبی اور گرفتاری کے معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔